مالی قربانی ایک تعارف — Page 42
مالی قربانی 42 لازمی چندہ نہ دینے والوں کے متعلق ارشادات حضرت خلیفہ امسیح الرابع خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۹۴ء میں فرماتے ہیں:۔"سوال یہ کہ اگر جماعت کے چندہ کی ادائیگی نہیں کی جاتی تو ایسے دوستوں سے ذیلی ٹیم کا چندہ لیا جائے یا نہ لیا جائے؟ میں نے جہاں تحریک جدید کا ذکر کیا ہے وہاں اس سے پہلے لازمی روز مرہ کے چندہ جات میں ان کو شامل کرنے کی تلقین کی۔کیونکہ بنیادی اصول یہی ہے کہ وہ شخص جو دائمی لازمی قربانی میں شریک نہیں ہوتا اس سے نوافل قبول نہیں کئے جاتے آنے والوں کو مستقل لازمی قربانی کے نظام میں شامل کرنا ہمارا اولین فرض ہے لیکن اگر وہ طوعی طور پر تحریک میں ہی شامل ہو جائیں تو اس سے بھی ان کو مستقل مالی نظام کا حصہ بنے میں مدد ملے گی اور طاقت نصیب ہوگی۔اس لئے یہاں اتنی زیادہ technicalities میں اور قانونی ابیچ بیچ میں مبتلا نہ ہوں بلکہ چندے کی روح کو پیش نظر رکھتے ہوئے اعلیٰ مقاصد کی خاطر ان کی زندگی کی حفاظت کے لئے ان سے تالیف قلب کا سلوک کریں اور قرآن کریم نے جہاں مئولفتہ القلوب کی بات فرمائی ہے وہاں عام لوگوں سے ہٹ کر وقتی طور پر کچھ عرصہ کیلئے ایک نرم سلوک کا اشارہ نہیں بلکہ واضح ہدایت ملتی ہے اور اس کا تعلق اس نظام سے بھی ہے۔ر پس نئے آنے والوں کے تعلق میں میرا جواب یہ ہے کہ خواہ لازمی چندہ ابھی شروع نہ بھی کیا ہو وہ طوعی چندے میں اگر شوق سے حصہ لینا چاہیں تو یہ کہہ کر آپ نے انکار نہیں کرنا کہ آپ نے لازمی چندے میں حصہ نہیں لیا۔چھ مہینے۔نو مہینے۔سال کچھ عرصہ تربیت کے گزاریں پھر بعد میں انفرادی حالات دیکھ کر فیصلے ہوں گے۔اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو مؤلفۃ القلوب کے دائرے سے باہر آچکے ہیں ایک دائی مستقل ٹھوس حصہ بن چکے ہیں نظام کا ان کیلئے یہی ہدایت ایک تعارف