ملفوظات (جلد 9) — Page 81
۲۹؍جنوری ۱۹۰۷ء (صبح کی سیر) دشنام دہی کا انجام آج حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بوقت صبح مع احباب باہر سیر کو تشریف لے گئے۔مرتد ڈاکٹر عبد الحکیم کے تذکرہ پر حضرت نے فرمایا کہ ایک آریہ اخبار نے باوجود ہمارے مذہبی تخالف کے لکھا کہ عبد الحکیم کا آپ کو گالیاں دینا اس کی سفلہ پنی کو ظاہر کرتا ہے۔نہایت نامناسب اَمر ہے۔ایک صاحب نے کہا کہ عبد الحکیم کہتا ہے۔جعفر زٹلی جو مرزا صاحب کو سخت گالیاں دیتا رہا ہے اس کو کیا ہوا جو مجھے کچھ ہوگا۔حضرت نے فرمایا۔اس کو پادری عبد اللہ آتھم، لیکھرام، چراغ دین ساکن جموں اور دوسرے مباہلین کے احوال سے عبرت پکڑنی چاہیے تھی۔۱ اسی سیر کے دوران کے مزید ملفوظات بدر سے۔کلمہ طیبہ کی اصل روح میں۲ نے عرض کیا کہ حضور لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کو بار بار پڑھنے اوراس کے ذکر کا بھی ثواب ہے یا نہیں؟ فرمایا۔دل میں خدا سے تعلق ہو تو۔پھر زیادہ تشریح طلب کرنے پر فرمایا۔اصل بات یہ ہے کہ میرا مذہب یہ نہیںکہ زبانی جمع خرچ کیا جاوے۔ان طریقوں میں بہت سی غلطیاں ہیں ان تمام اذکار کی اصل روح اس پر عمل کرنا ہے۔ایک دفعہ صحابہ کرامؓ اللہ بآواز بلند کہہ رہے تھے تو حضرت نے فرمایا تمہارا خدا بہرہ نہیں۔تومطلب یہ ہے کہ کلمہ سے مراد ہے توحید کو قائم رکھنا اور اس کے رسول کی اطاعت۔اب ثواب اس میں ہے کہ ہربات میں اللہ کو مقدم رکھے اور اللہ پر پورا پورا ایمان لائے۔اس کی صفات کے خلاف کوئی کلام کوئی کام نہ کرے حتی کہ خیال بھی نہ لائے۔وہ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ (النّور:۳۸) اس سے بھی یہی الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴ مورخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۹ ۲ اس سے مراد قاضی محمد اکمل صاحب گولیکی ہیں۔(مرتّب)