ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 81

ملفوظات حضرت مسیح موعود M جلد نهم ۲۹ جنوری ۱۹۰۷ء (صبح کی سیر ) آج حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بوقت صبح مع احباب باہر سیر کو تشریف دشنام دہی کا انجام لے گئے۔ مرتد ڈاکٹر عبدالحکیم کے تذکرہ پر حضرت نے فرمایا کہ ایک آریہ اخبار نے باوجود ہمارے مذہبی تخالف کے لکھا کہ عبدالحکیم کا آپ کو گالیاں دینا اس کی سفلہ اپنی کو ظاہر کرتا ہے۔ نہایت نامناسب امر ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ عبدالحکیم کہتا ہے۔ جعفر زٹلی جو مرزا صاحب کو سخت گالیاں دیتا رہا ہے اس کو کیا ہوا جو مجھے کچھ ہوگا۔ حضرت نے فرمایا۔ اس کو پادری عبد اللہ آتھم ، لیکھرام، چراغ دین ساکن جموں اور دوسرے مباہلین کے احوال سے عبرت پکڑنی چاہیے تھی۔ اے اسی سیر کے دوران کے مزید ملفوظات بدر سے۔ میں ہے نے عرض کیا کہ حضور لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کو بار بار کلمہ طیبہ کی اصل روح پڑھنے اور اس کے در کا بھی اب سے یانہیں؟ ذکر ثواب فرمایا۔ دل میں خدا سے تعلق ہو تو ۔ پھر زیادہ تشریح طلب کرنے پر فرمایا۔ اصل بات یہ ہے کہ میرا مذہب یہ نہیں کہ زبانی جمع خرچ کیا جاوے۔ ان طریقوں میں بہت سی غلطیاں ہیں ان تمام اذکار کی اصل روح اس پر عمل کرنا ہے۔ ایک دفعہ صحابہ کرام اللہ بآواز بلند کہہ رہے تھے تو حضرت نے فرمایا تمہارا خدا بہرہ نہیں ۔ تو مطلب یہ ہے کہ کلمہ سے مراد ہے تو حید کو قائم رکھنا اور اس کے رسول کی اطاعت ۔ اب ثواب اس میں ہے کہ ہر بات میں اللہ کو مقدم رکھے اور اللہ پر پورا پورا ایمان لائے ۔ اس کی صفات کے خلاف کوئی کلام کوئی کام نہ کرے حتی کہ خیال بھی نہ لائے ۔ وہ جو لائے ۔ وہ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رِجَالُ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةً وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ الله (النور : ۳۸) اس سے بھی یہی الحکم جلدا انمبر ۴ مورخه ۱۳۱ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۹ ہے اس سے مراد قاضی محمد اکمل صاحب گولیکی ہیں ۔ ( مرتب )