ملفوظات (جلد 9) — Page 82
مراد ہے کہ دنیا کے کاموں میں بھی میرے احکام کو نہیں بھلاتے۔دیکھو! اس وقت ہم ان طریقوں کی طرح ذکر نہیں کر رہے مگر حقیقت میں اسی کی عظمت و جلال کا ذکر ہے۔پس یہی ذکر ہے۔۱ الہام کا معاملہ بڑا نازک ہوتا ہے ایک صاحب نے ایک شخص مرید کے کچھ الہامات حضرت اقدسؑ کو سنائے۔۲ حضرت نے فرمایا۔الہام کا بڑا نازک معاملہ ہے۔انسان کو اپنے اعمال صاف کرنا چاہیے۔بدر جلد ۶ نمبر ۷ مورخہ ۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۸ ۲ بدر سے۔’’عرض کیا گیا ایک نوجوان احمدی یہ الہامات سناتا ہے۔رؤیا میں خلقت نے مجھے سجدہ کیا۔بہشت کی سیر کی اور الہام اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ۔‘‘ فرمایا۔’’یہ بڑے ابتلا کا مقام ہے۔میرا مذہب تو یہ ہے کہ جب تک درخشاں نشان اس کے ساتھ بار بار نہ لگائے جاویں تب تک الہامات کا نام لینا بھی سخت گناہ اور حرام ہے۔پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ قرآن مجید اور میرے الہامات کے خلاف تو نہیں۔اگر ہے تو یقیناً خدا کا نہیں بلکہ شیطانی اِلقا ہے۔اصل میں ایسے تمام لوگوں کی نسبت میرا تجربہ ہے کہ انجام کار ہلاک ہوتے ہیں۔اپنے اعمال کی طرف خیال نہیں کرتے۔یہ نہیں دیکھتے کہ ہمارے قلب کا اللہ سے کیسا تعلق ہے اور ان الہامات میں پڑ جاتے ہیں۔ان سے عُجب و استکبار پیدا ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ پھر کسی کی بات پسند نہیںکرتے اور ہر سچی بات کو اپنے اوہام کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔جب مطابق نہیں پاتے تو انکار کرتے اور ہلاکت کے گڑھے میں گِرتے ہیں۔ان لوگوں کے دلوں میں ایک قسم کا گند ہوتا ہے اور شیطان متسلّط ہونے کے لیے ایک عجیب راہ نکال لیتا ہے۔استغفار پڑھنا چاہیے اور بالکل ان باتوںسے کلی طور سے مجتنب۔ورنہ یاد رکھیں کہ یہ بڑے خطرے کا مقام ہے۔خدا تعالیٰ کسی کے الہام کو نہیں پوچھے گا۔بیشک یہ الہام انعامِ الٰہی سے ہے مگر دیکھو ہوا بنفسہٖ تو ایک بڑی طیّب اور مفرح ذات چیز ہے مگر ایک روڑی پر گذرے تو کثافت پھیلائے گی۔یہی حال ہے ایسے لوگوں کا۔میں سمجھتا ہوں۔مخلوق نے کیا سجدہ کرنا تھا۔شیطان اور اس کی ذرّیت نے سجدہ کیا ہوگا کہ ہم تیرے ساتھ ہیں بیشک گمراہی پھیلا۔عرض کیا گیا۔حضور ایسے لوگوں کی نسبت ہم تو اس لیے کچھ نہیں کہتے کہ وہ آپ کی تصدیق کرتے ہیں۔فرمایا۔یہ جھوٹ بات ہے ان کے دلوں میں گند پنہاں ہے۔ان کے جھوٹے الہامات کو شیطانی کہا جائے تو فوراً ہماری بھی تکذیب کریں۔آپ نے بہت تاکیدی الفاظ سے پورے جوش میں تقریر فرمائی۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۷ مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ءصفحہ ۸)