ملفوظات (جلد 9) — Page 80
پیش کیا اور وہ حدیث لکھی جس میں نبی علیہ السلام نے اپنے متعلق آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ فرمائی اور اس میں تَوَفَّيْتَنِيْ کے معنے وفات کے ظاہر فرمائے۔۱ ۲۸؍جنوری ۱۹۰۷ء (بوقت ظہر) چند مسائل آج حضرت اقدس ظہر کی نماز میں تشریف لائے تو مندرجہ ذیل سوالات خطوط سے حضرت کے حضور میں پیش ہوئے۔(۱) ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میری پہلی بیوی کو جلدی اولاد ہو جاتی ہے جس کے باعث وہ کمزور ہوگئی کیا میں دوسرا نکاح کر سکتا ہوں یا نہیں؟ حضرت نے فرمایا۔اس کو بہر صورت اختیار ہے۔(۲)پھر ایک شخص کا سوال ہوا کہ مجھ سے گناہ ہوجاتا ہے اور پھر توبہ کر لیتا ہوں۔پھر گناہ ہوجاتا ہے کیا علاج کروں؟ آپ نے فرمایا۔پھر توبہ کرے اور اس کا کیا علاج ہے؟ (۳)سوال پیش ہوا کہ بعض لوگ یہ عذر کرتے ہیں کہ جس کی عورت آگے موجود ہو اس کو ہم ناطہ نہیں دیتے۔حضرت نے فرمایا۔پھر وہ اس سے تو مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ (النّسآء:۴)کو بند کرنا چاہتے (ہیں)۔(۴) سوال پیش ہوا کہ بندوق کے شکار کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضرت نے فرمایا۔تکبیر پڑھ کر بندوق مارے، شکار مَر جاوے تو حلال ہے۔۲ ۱ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴ مورخہ ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۵ ۲ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۵ مورخہ ۱۰؍فروری ۱۹۰۷ءصفحہ ۴