ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 63

جس قدر مقدمات مجھ پر کئے گئے یا کرائے گئے ان میں میرے ہی مخالفوں کو ناکامی اور نامرادی ہوئی اور خدا تعالیٰ نے مجھے ہی بامراد کیا۔آتمارام کے سامنے یہ نا کام ہوئے۔جہلم میں انہیں نامرادی ہوئی اور اس سے پہلے وہ شرمندہ ہوئے۔ماسوا اس کے ایک اور بات میں پیش کرتا ہوں جو بہت ہی صاف اور بدیہی بات ہے۔براہین احمدیہ کے زمانہ میں جس کو بتیس سال کے قریب گذرے۔کیونکہ کتاب تالیف پہلے ہوتی ہے اور پھر طبع ہوتی ہے اس کو شائع ہوئے بھی چھبیس سال گذرے۔اور وہ تالیف اس سے بہت پہلے ہوئی۔اس میں اس قدر پیشگوئیاں ہیں کہ میں اس وقت ان سب کو بیان نہیں کر سکتا۔نمونہ کے طور پر میں ایک کو بیان کرتا ہوں۔ایک زبردست نشان جو ہر روز پورا ہوتا ہے اس کتاب براہین احمدیہ میں اللہ تعالیٰ مجھے ایک دعا سکھاتا ہے یعنی بطور الہام فرماتا ہے رَبِّ لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ یعنی مجھے اکیلا مت چھوڑ اور ایک جماعت بنادے۔پھر دوسری جگہ وعدہ دیتا ہے یَاْتِیْکَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ ہر طرف سے تیرے لیے وہ زر اور سامان جو مہمانوں کے لیے ضروری ہیں اللہ تعالیٰ خود مہیا کرے گا اور وہ ہر ایک راہ سے تیرے پاس آئیں گے۔اور پھر فرمایا يَاْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۔لَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰهِ وَلَا تَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ ہر ایک طرف اور ہر ایک راہ سے تیرے پاس مہمان آئیں گے اور اس قدر کثرت سے آئیں گے کہ قریب ہے تو ان سے تھک جاوے یا بد خلقی کرے۔اس لیے پہلے سے بتا دیا کہ نہ تو ان سے تھکے اور نہ ان سے بد خلقی کرے۔یہ پیشگوئیاں اس براہین احمدیہ میں موجود ہیں۔جن کو شائع ہوئے چھبیس سال کا عرصہ گذرتا ہے اور جس کی تالیف پر بتیس سال گذرتے ہیں۔یہ وہ کتاب ہے جو مخالفوں کے پاس بھی موجود ہے اور گورنمنٹ میں بھی بھیجی گئی اور مکہ مدینہ اور بخارا میں بھی اس کے نسخے پہنچے۔اب تو اس میں یہ الہامات درج نہیں کر دیئے گئے۔