ملفوظات (جلد 9) — Page 64
اب غور کرو کہ جس زمانہ میں یہ پیشگوئی شائع ہوئی یا لوگوں کو بتائی گئی اس وقت کوئی شخص یہاں آتا تھا؟ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کوئی مجھے جانتا بھی نہ تھا۔اور کبھی سال بھر میں بھی ایک خط یا مہمان نہ آتا تھا۔میں بالکل ایک گمنامی کی حالت میں پڑا ہوا تھا۔یہ ہندو جو یہاں رہتے ہیں اور اب گالیاں دیتے ہیں اور ہر قسم کی مخالفت کرتے اور خباثت دکھاتے ہیں۔ان کو قسم دو اور یا وہ بغیر قسم ہی بتائیں کہ کیا ان لوگوں میں سے کوئی ہمارے پاس تھا؟ یہ سب سے پہلے گواہ ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے ان نشانات کو دیکھا ہے اور اب وہ چھپاتے ہیں اس طرح پر گویا سب سے پہلے جہنم کے لیے تیار ہیں۔آریہ سماج والے ملاوامل اور شرمپت رائے یہاں موجود ہیں۔یہ میرے ساتھ عموماً آیا جایا کرتے تھے۔میرے ساتھ براہین احمدیہ چھپوایا کرتے اور اس کے پروف بھی انہوں نے دیکھے ہیں اور جب ہم امرتسر جاتے تھے تو کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ کہاں گئے اور وہاں جا کر کوئی نہیں جانتا تھا کہ کہاں رہے۔اب اگر وہ ایمان رکھتے ہیں اور دھرم رکھتے ہیں تو وہ جواب دیں۔میں سچ کہتا ہوں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے بہت سے نشانات دیکھے ہیں اور وہ گواہ ہیں لیکن قوم اور برادری کے ڈر سے خاموش ہیں۔وہ کیوں اس شہادت کو ظاہر نہیں کرتے؟ یہ سچائی کا خون کرنا ہےوہ عنقریب جان لیں گے کہ ان کا انجام کیا ہے؟ وہ قسم کھا کر بتائیں کہ کیا یہ رجوع لوگوںکا تھا؟ کیا اسی طرح فتوحات آتی تھیں؟ اسی طرح پر خطوط آتے تھے؟ تم نے یہ عبارتیں پڑھی تھیں۔اگر یہ سچ ہے اور تمہارے سامنے قبل از وقت ایسی حالت میں کہ کوئی مجھے جانتا بھی نہ تھا، خدا تعالیٰ سے وحی پاکر میں نے خبر دی تھی اور وہ پوری ہوئی تو پھر بتاؤ کہ کیا یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ اس طرح پر قبل از وقت خبر دے اور ایک زمانہ دراز کے بعد وہ پوری ہوجاوے؟ ایک آدمی جو گمنامی کی حالت میں ہے اس کو اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ تیرے لیے ایک زمانہ آتا ہے کہ تو عالم میں مشہور ہوجائے گا۔فَـحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ ایک زمانہ آئے گا کہ تیری مدد کی جائے گی اور تو لوگوں میں شناخت کیا جائے گا۔کیا یہ انسانی کام اورمنصوبہ ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ