ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 62

دامن نبوت بہت وسیع ہے اور اس زمانہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ معجزات رکھے تھے اور وہ ظاہر ہوئے لیکن میری مخالفت اور عداوت کی وجہ سے انہوں نے بخل سے مٹانا چاہا ہے۔ایک طرف تو آپؐکی محبت اور آپ کی اتباع کا دعویٰ ہے۔دوسری طرف جب نشان ظاہر ہوتا ہے تو انکار کر دیتے ہیں۔یہ تو وہ نشانات تھے جو اس زمانہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے وحی پاکر بیان کئے تھے مگر ان کے سوا نشانات کا ایک اور بھی نیا سلسلہ ہے۔یہ وہ نشانات ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر ظاہر کئے جن کی قبل از وقت خبر دی گئی تھی۔ان کی تعداد بہت بڑی ہے۔منجملہ ان کے ایک زلزلہ کی پیشگوئی ہے جو اگرچہ قرآن شریف میں بھی اس کی خبر دی گئی تھی لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے بھی اس کا علم دیا جیسا کہ براہین احمدیہ اور دوسری کتابوں میں میں نے درج کر دیا۔اور پھر جن دنوں مَیں گورداسپور میں تھا ’’زلزلہ کا دھکا‘‘ الہام ہوا تھا جو انہیں ایام میں اخبارات میں شائع کر دیا گیا اور پھر عَفَتِ الدِّیَارُ مَـحَلُّھَا وَ مُقَامُھَا بھی الہام ہوا تھا اور یہ پیشگوئی ۴ ؍ اپریل گذشتہ کو پوری ہوگئی اور پھراسی کے ضمن میں اور زلزلوںکی پیشگوئیاں تھیں جو آتے رہے۔منجملہ ان کے ایک بھاری زلزلہ کی پیشگوئی تھی۔’’پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔‘‘چنانچہ وہ بھاری زلزلہ بھی آگیا۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ محض میری عداوت کی وجہ سے قرآن شریف کی پیشگوئی کا بھی انکار کر دیا۔یہ ان کی ایمانی حالت ہے جو کچھ میرے تصدیق دعویٰ میں ظاہر ہو خواہ وہ قرآن مجید میں بھی موجود ہو یہ اس سے ضرور انکار کر دیتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ نشان پر نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔یہ لوگ کہاں تک خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا مقابلہ کریں گے اور میرے ساتھ کشتی لڑیں گے۔جو لوگ حقیقۃ الوحی کو جب وہ شائع ہوگی پڑھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر نشانات کا سلسلہ ہے میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ ایک لاکھ سے بھی زیادہ نشان ظاہر ہوچکے ہیں۔اب غور کرو کہ اگر کوئی شخص خدا کی طرف سے نہ ہو تو کیا اس کی اس قدر نصرت اور تائید ہوا کرتی ہے؟ پھر جبکہ اسے یہ بھی کہا جائے کہ وہ خدا کا دشمن اور خدا اس کا دشمن ہے۔