ملفوظات (جلد 9) — Page 60
کہ پہلے مجدّد آئیں گے مگر چودھویں صدی پر جو سب سے زیادہ فتنوں کی صدی ہے دجّال آئے گا۔موجودہ حالت تو کھول کھول کر پکار رہی ہے کہ اصلاح کی ضرورت ہے مگر یہ ابھی اور فساد چاہتے ہیں۔یہ پکی بات ہے کہ جب زمین پر معصیت اور پاپ پھیل جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اصلاح کےلیے کسی کو بھیجتا ہے اور اب وہ حالت ہوچکی تھی اس لیے اب بھی اسی نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔حالت زمانہ کے بعد وہ نشانات ہیں جو اس سلسلہ کی سچائی کے لیے ظاہر ہوئے اور ان نشانات سے وہ نشانات مراد ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرار دیئے تھے اور قبل از وقت بتا دیئے تھے منجملہ ان کے ایک کسوف خسوف کا نشان ہے۔مولوی جب تک یہ نشان پورا نہیں ہوا تھا رو رو کر اسی حدیث کو پڑھا کرتے تھے۔مولوی محمد لکھوکے والے نے اپنی کتاب احوال الآخرت میں اس نشان کو بڑے زور شور سے بیان کیا ہے کہ مہدی کے زمانہ میں رمضان کے مہینے میں کسوف اور خسوف ہوگا۔دار قطنی کھول کر دیکھ لو کہ کیا یہ حدیث اس میں موجود ہے یا نہیں؟ لیکن جب یہ نشان پوار ہوا اور نہ ایک دفعہ بلکہ دو مرتبہ۔ایک مرتبہ اس ملک میں ہوا۔دوسری مرتبہ امریکہ میں ہوا۔اس میں حکمت یہ تھی کہ تا دو مرتبہ حجّت پوری ہوجاوے اور اس ملک میں اس لیے کہ چونکہ وہ ملک عیسائی مذہب کی اشاعت کرتے ہیں ان پر بھی اتمامِ حجت ہو۔اب بتاؤ کہ علاوہ اور بے شمار نشانات کے یہ زبردست نشان ظاہر ہوا۔اور اس کو پورا ہوئے بھی دس گیارہ سال گذر گئے۔اگر حقیقی مدعی موجود نہ تھا تو پھر یہ نشان کس لیے ظاہر ہوا؟ نشان پورا ہوچکا مگر تم ابھی تک حقیقی دعویدار کو دجّال اور واجب القتل کہے جاتے ہو۔میرے ایک دوست نے بیان کیا کہ جب یہ نشان پورا ہوا تو ایک مولوی غلام مرتضیٰ نام نے خسوف قمر کے وقت اپنی رانوں پر ہاتھ مار مار کر (جیسے کوئی سیاپا کرتا ہے۔ایڈیٹر) کہا کہ اب دنیا گمراہ ہوگی۔خیال تو کرو کیا وہ خدا تعالیٰ سے بڑھ کر دنیا کا خیر خواہ تھا؟ اس نے کیسی غلطی کھائی! اگر انصاف اور خدا ترسی ہوتی تو میرے معاملہ میں اس کے بعد خاموش ہوجاتے۔مگر نہیں اور بھی دلیر ہوئے۔یہ کسوف خسوف کا نشان حدیث ہی میں بیان نہیں ہوا بلکہ قرآن مجید نے بھی اس کو بیان کیا ہے۔