ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 61

پھر قرآن شریف میں ایک اور نشان بتایا گیا تھا کہ اس زمانہ میں طاعون کثرت سے پھیلے گا۔احادیث میں بھی یہ پیشگوئی تھی۔قرآن مجید میں لکھا تھا اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا (بنی اسـرآءیل:۵۹) اور دوسری جگہ صاف طور پر بتایا گیا تھا کہ وہ ایک زمینی کیڑا ہوگا۔(دابۃ الارض) آخری زمانہ میں بہت سے لوگ اس سے مَریں گے۔اب کوئی بتائے کہ کیا اس نشان کے پورا ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی رہ گیا ہے؟ پھر اس آخری زمانے کے نشانات میں بتایا گیا تھا کہ نہریں نکالی جاویں گی اور نئی آبادیاں ہوں گی۔پہاڑ چیرے جاویں گے۔کتابوں اور اخباروں کی اشاعت ہوگی۔اور یہ بھی لکھا تھاوَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ(التکویر:۵) یعنی ایک ایسی نئی سواری نکلے گی جس کی وجہ سے اونٹنیاں بے کار ہوجائیں گی اور ایسا ہی حدیث میں بھی فرمایا گیا تھا لَیُتْـرَکُنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْـھَا۔اب دیکھ لو کہ ریل کے اِجرا سے یہ پیشگوئی کیسی صاف صاف پوری ہوگئی اور عنقریب جب مکہ تک ریل آئے گی تو اور بھی اس کا نظارہ قابل دید ہوگا۔جب وہاں کے اونٹ بے کار ہوجائیں گے۔مگر میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ اس جگہ محض میرے ساتھ بخل کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر بھی حملہ کیا اور آپ کی پیشگوئیوں کی تکذیب کی۔وہ اَمر جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت ثابت ہوتی تھی۔میری عداوت کی وجہ سے اسے مٹانا چاہا ہے۔مجھ سے عداوت ہی سہی لیکن آپؐکی پیشگوئی کو کیوں پامال کر دیا؟ میں سچ کہتا ہوں کہ طاعون اور ریل کے اِجرا وغیرہ کی پیشگوئیوں کا محض اس وجہ سے انہوں نے انکار کیا کہ ان سے میری سچائی ثابت ہوتی تھی جس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہیں کوئی تعلق محبت کا باقی نہیں کیونکہ یہ کبھی نہیں ہوا کہ دشمن کو آزار پہنچانے کے لیے محبوب کے نشانات کو پامال کر دیا جاوے مگر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان معجزات اور نشانات کو جو اس زمانہ میں ظاہر ہوئے پامال کرنے کی کوشش کی ہے۔جو نشانات اورمعجزات آپؐکے وقت میں ظاہر ہوئے وہ اس زمانہ کے لوگوں تک محدود تھے اور اس زمانہ کے لیے وہ ’’شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘‘ کے مصداق تھے۔لیکن چونکہ آپ کا