ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 59

کَچھ پہن لیے اور مونچھیں بڑھالیں اور السلام علیکم کی جگہ واہگوروجی کی فتح رہ گئی۔یہ تو وہ حالت تھی جو سکھوںکے عہد میں ہوئی۔اب جب امن ہوا تو فسق و فجور میں ترقی کی اور ادھر عیسائیوں نے ہر قسم کے لالچ دے کر ان کو عیسائی بنانا چاہا اور ان کا وار خالی نہیں گیا۔ہر گرجا میںہر شریف قوم کی لڑکیاں اور لڑکے پاؤ گے جو مرتد ہو کر ان میںمل گئے ہیں۔وہ کیسا دردناک واقعہ ہوتا ہے جب کسی شریف خاندان کی لڑکی کو پھسلا کر لے جاتے ہیں اور پھر وہ بے پردہ ہو کر پھرتی ہے اور ہر قسم کے معاصی سے حصہ لیتی ہے۔ان حالات کو دیکھ کر ایک معمولی عقل کا آدمی بھی کہہ اٹھے گا کہ یہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد آوے۔ان لوگوں کا تو ہم منہ بند نہیں کر سکتے جو کہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کا کچھ نہیں بگڑا۔ایسے لوگوں کے نزدیک تو اگر سب کے سب دہریہ ہو جائیں۔تب بھی کچھ نہیں بگڑے گا۔لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس وقت اسلام خدا کی مدد کا سخت محتاج ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے اس صدی کا مجدّد کرکے بھیجا ہے اور یہ کیسی خوشی کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے وقت میں اسلام کو بے مدد نہیں چھوڑا۔اس نے اپنے قانون کے موافق مجھے بھیجا ہے تا میں اسے زندہ کروں مگر تعجب اور افسوس کا مقام ہے کہ باوجودیکہ زمانہ کی حالت مجدّد کی داعی تھی اور مولویوں سے پوچھو وہ اقرار کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہر صدی پر ایک مجدّد آئے گا۔لیکن جب ان سے پوچھا جاوے کہ اب بتاؤ اس صدی کا مجدّد کون ہے؟ تو جواب نہیں دیتے۔حالانکہ چوبیس سال صدی میں سے گذر گئے اور جب میں پیش کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے اس صدی کا مجدّد کر کے بھیجا ہے تو انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دجّال آیا۔اور ابھی کہتے ہیں کہ ایک نہیں بلکہ تیس دجّال آنے والے ہیں۔۱ افسوس! باوجود اس سرگردانی کے کیا تمہارے حصہ میں دجّال ہی آیا ہے۔کیا کہیں یہ بھی لکھا ہے بدر سے۔’’کیا سبب ہے کہ اس صدی کے سر پر آکر وہ حدیث بھی جھوٹی ہوگئی جو تیرہ سو سال تک ٹھیک ثابت ہوتی چلی آتی تھی۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۳)