ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 48

پہنچ جاوے اور وہ ایسی عالمگیر ہوجاوے کہ ہر طرف موت ہی موت نظر آنے لگے تو عادت اللہ یہی ہے کہ اس وقت کوئی نہ کوئی علاج اس کا نکل آتا ہے اور گورنمنٹ کو بھی اس کے انسداد اور علاج کی طرف خاص توجہ ہونے لگتی ہے وہ دیکھتی ہے کہ یہ کیا اندھیر ہوا کہ موت ہی موت ہونے لگی۔اسی طرح پر روحانی نظام ہے۔جب کسی ملک اور قوم کی حالت بگڑ جاتی ہے اور وہ انسانیت کے جامہ سے نکل کر وحشیانہ حالت میں آجاتی ہے اور ہر قسم کی بدیوں اور بد کاریوں میں مبتلا ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کا کوئی سامان پیدا کر دیتا ہے۔یہ بالکل صاف بات ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے دلائل پس جب عرب کی حالت ایسی خراب ہوگئی تو ضروری تھا کہ اس کی اصلاح کےلیے اللہ تعالیٰ کسی کامل انسان کو بھیجتا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔جو ایسے وقت آئے کہ دنیا آپؐکی اصلاح کے لیے پکار رہی تھی۔یہ خدا تعالیٰ کے رحم کا تقاضا تھا اور مسلمانوں کے لیے یہ فخر اور ناز کا مقام ہے کہ آپؐکی بعثت کے وقت زمانہ کی حالت آپ کی سچائی کی ایک روشن دلیل ہے پھر اس کے بعد آپؐنے جو اصلاح کی وہ بھی آپ کی حقانیت کی دلیل ہے کیونکہ جب ایک طبیب بیماروں میں آوے اور مختلف قسم (کے) مریض موجود ہوں۔کوئی طاعون میں مبتلا ہو۔کوئی دِق سِل کا شکار اور کوئی ذات الریہ اور ذات الجنب وغیرہ اور پھر وہ طبیب اپنے علاج سے اکثروں کو اچھا کر دے تو اس کے حاذق اور ڈاکٹر ماننے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے؟ بلاتکلف ماننا پڑے گا کہ وہ کامل طبیب ہے لیکن جبکہ وہ سب ہی کو اچھا کر دے اور جو دعویٰ کرے اس کو پورا کر دکھائے اور ایسا کہ اس کی نظیر ہی نہ مل سکے تو پھر اس کے کمال میں کوئی شک ہی نہیں ہو سکتا۔اسے راستباز اور اپنے فن میں یکتا ماننا پڑے گا۔یہی حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ ایسے وقت آئے کہ ضرورت پکار رہی تھی اور پھر اپنی تاثیرات سے ان تمام روحانی مریضوں کو جو اس وقت پڑے ہوئے تھے اچھا کر دیا۔میں دیکھتا ہوں اوردعویٰ سے کہتا ہوں کہ دو دلیلیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی ایسی جمع ہوئی ہیںکہ نہ حضرت موسیٰ