ملفوظات (جلد 9) — Page 49
کو ملیں اور نہ حضرت عیسیٰ کو(علیہما السلام) سب جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ایسی قوم میں آئے جو تورات پڑھتے تھے اور فقیہوں فریسیوں کے تابع تھے۔یہ سچ ہے کہ ان میں غافل دنیا دار بھی تھے لیکن پھر بھی تورات پڑھی جاتی تھی۔بیت المقدس قبلہ موجود تھا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس قوم میں آئے وہ تو کسی بات کے بھی قائل نہ تھے نہ ان میں کوئی شریعت تھی اور نہ وہ کسی کتاب کے قائل اور پابند بلکہ اکثر تو خدا تعالیٰ کے بھی قائل نہ تھے۔وہ کہتے تھے۔مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَ نَحْيَا وَ مَا يُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ(الـجاثیۃ:۲۵) وہ جو کچھ سمجھتے تھے اسی دنیا کو سمجھتے تھے کہ آگے جاکر کسی نے کیا دیکھا ہے۔یہی دنیا ہی دنیا ہے۔اس آیت میں دہر کا لفظ اسی لیے بیان کیا ہے تاکہ ظاہر کیا جاوے کہ وہ دہریہ تھے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس وقت عرب میں قریباً تمام بیہودہ اور باطل مذاہب جمع ہوئے ہوئے تھے۔وہ گویا ایک چھوٹا سا نقشہ تھا جو گندے اور افراط تفریط کے طریق تھے۔وہ عملی طور پر اس میں دکھائے گئے تھے۔جیسے کسی ملک کا نقشہ ہو۔اس میں سب مقام موٹے موٹے دکھائےجاتے ہیں۔اسی طرح وہاں کی حالت تھی۔یہ کیسی بڑی روشن دلیل آپؐکی سچائی کی ہے کہ ایسی قوم اور ایسے ملک میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا جو انسانیت کے دائرہ سے نکل چکا تھا۔میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ خواہ کیسا ہی پکا دشمن ہو اور خواہ وہ عیسائی ہو یا آریہ جب وہ ان حالات کو دیکھے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب کے تھے اور پھر اس تبدیلی پر نظر کرے گا جو آپؐکی تعلیم اور تاثیر سے پیدا ہوئی تو اسے بے اختیار آپؐکی حقانیت کی شہادت دینی پڑے گی۔موٹی سی بات ہے کہ قرآن مجید نے ان کی پہلی حالت کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے يَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ (مـحـمد:۱۳)یہ تو ان کی کفر کی حالت تھی پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تاثیرات نے ان میں تبدیلی پیدا کی تو ان کی حالت یہ ہوگئی يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّقِيَامًا (الفرقان:۶۵) یعنی وہ اپنے ربّ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے راتیں کاٹ دیتے ہیں جو تبدیلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گڑھے