ملفوظات (جلد 9) — Page 47
حالت زمانہ ضرورت امام کی داعی ہے میں کہہ چکا ہوں کہ پنجاب میں یہ سلسلہ کیوں قائم ہوا؟ سکھوںکا زمانہ ایسا تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مکہ میں قریش کا زمانہ تھا۔اب تک بھی کہ ان کے عہد کو گذرے پچاس ساٹھ سال ہونے کو آئے پھر بھی دوسرے ہندوؤں کی نسبت ان کی حالت وحشیانہ پائی جاتی ہے۔خلاصہ یہ کہ انسانی فطرت کا تنزل ہو گیا تھا اور قریب تھا کہ لوگ جانوروں کی سی زندگی بسر کرنے لگیں۔صرف دم کی کسر باقی رہ گئی تھی۔مسلمانوں سے بعض کی حالت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ انہوں نے کَچھ پہن لی تھی اور سکھ ہو گئے تھے اس لیے یہ ملک حق رکھتا تھا کہ خدا تعالیٰ اس سلسلہ کو یہاں ہی قائم کرتا کیونکہ جو ملک زیادہ جہالت میں ہو اس کا حق ہوتا ہے کہ اس کی اصلاح ہو۔یہی وجہ تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب کا حق سب سے بڑھ کر تھا کیونکہ وہاں کی حالت ایسی خراب ہو چکی تھی کہ کسی دوسری جگہ اس کی نظیر پائی نہیں جاتی تھی۔ان کی حالت ایسی وحشیانہ تھی کہ اس کو بیان کرتے ہوئے بھی شرم آجاتی ہے۔وہ بالکل خلیع الرسن ہوچکے تھے۔قمار باز وہ تھے۔شراب خوار وہ تھے۔یتیموں کا مال مار کر کھا جاتے تھے۔زنا کرنے میں دلیر اور بے باک تھے۔غرض خیانت، بد دیانتی اور ہر قسم کے فسق و فجور اور معصیت میں دلیر تھے۔اس لیے ضرورت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ہی آتے جہاں نہ حقوق اللہ کی پروا کی جاتی تھی اور نہ حقوق العباد کی کوئی رعایت باقی تھی۔جیسا کہ میں نے کل ذکر کیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے جو یہ ذکر قرآن مجید میں کیا ہے کہ اگلے انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے وقت ایسے ایسے خبیث موجود تھے کہ ان کی مختلف بدیاں ذکر کی ہیں اور پھر اس کے بعد یہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک کی جس قدر بدیاں مختلف اوقات میں پیدا ہوئیں وہ آپؐکے وقت میں سب جمع ہوگئی تھیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ زمانہ بالطبع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت کو پکار پکار کر بیان کر رہا تھا اور یہ ایک اَمر آپ کی سچائی کی دلیل ہے اور یہ ایسی واضح دلیل ہے کہ اس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔عام طور پر سب جانتے ہیں کہ جب مثلاً کوئی بیماری درجہ کمال تک