ملفوظات (جلد 9) — Page 40
اور ان کی کامل اتباع ہی سے نجات ملتی ہے۔کوئی وارنٹ گرفتاری کا گورنمنٹ کی طرف سے جاری نہیں ہوا۔اور نہیں پوچھاگیا کہ تم اپنے مذہب کی اشاعت کیوں کرتے ہو؟ پھر بتاؤ کہ ہم اگر اس کی اس آزادی اور امن کے لیے اس کی تعریف کریں اور اس کے لیے شکر گذاری کا جوش ظاہر کریں تو یہ خوشامد ہو سکتی ہے؟ یہ تو اَمر واقعہ کا اظہار ہے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے تو میں یقیناً کہتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سخت گنہگار ہے۔میں نے خوب غور کیا ہے اور تجربہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ اس قوم کی فطرت میں ہے کہ باوجودیکہ ہم نے عیسائی مذہب کی غلطیوں اور کمزوریوں کو سخت سے سخت طریق سے ظاہر کیا ہے مگر اس نے یہ سمجھ کر جو آزادی اس نے عیسائیوں کو دی ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کا ردّ کریں اور اپنے دین کی اشاعت کریں اس کے سایہ (میں) ہونے کی وجہ سے ویسے ہی حقدار ہیں اور ان کے فطرتی انصاف نے اس مساوات کو توڑنے کا ارادہ نہیں کیا۔ہر ایک کو اپنے مذہب کی اشاعت کے لیے پوری آزادی دی ہے بلکہ اس سے بھی عجیب تر یہ بات ہے کہ جب ایک جنٹلمین پادری نے مجھ پر اقدامِ قتل کا مقدمہ کیا تو گورنمنٹ نے اپنے انصاف کا کامل نمونہ دکھایا۔اگر ہمارے ساتھ کوئی کینہ ہوتا تو یہ عمدہ موقع تھا کہ ہمیں دکھ دیا جاتا۔لیکن میں دیکھتا تھا کہ کوئی رعایت اس جنٹلمین پادری کی میرے مقابلہ میں نہیں کی جاتی تھی۔صاحبِ ضلع مجھے عزّت سے بُلاتے تھے اور کرسی دیتے رہے۔انجام کار جب انہیں بخوبی معلوم ہوگیا کہ وہ مقدمہ محض شرارت سے مجھ پر بنایا گیا ہے اور سرا سر جھوٹا ہے تو اس نے کہا کہ یہ بد ذاتی مجھ سے نہیں ہو سکتی کہ سزا دے دوں۔چنانچہ اس نے عزّت کے ساتھ مجھے بری کیا۔۱ اور یہ بات مجھ سے ہی خاص نہیں بلکہ سب کے لیے یکساں حقوق حاصل ہیں۔اگر ہمیں یہ تجربہ ذاتی بھی نہ ہوتا تو بھی ہم شکر گذاری کے لیے بہت سے سامان پاتے ہیں اور علاوہ بریں یہ بات ۱ بدر سے۔’’میں نے سنا ہے کہ اس کے پاس میرے برخلاف سفارشیں کی گئیں تو اس نے جواب دیا کہ مجھ سے ایسی بد ذاتی نہیں ہو سکتی کہ میں ایک شریف آدمی کو بے گناہ سزا دوں۔پس اس نے مجھے عزّت کے ساتھ بُری کیا اور عدالت میں مجھے مبارکباد کہی۔‘‘ (بدر جلد ۶نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۸)