ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 39

دیکھا کہ بذریعہ تار ایک اور نسخہ اس کا منگوایا۔یہ عجیب بات ہے۔یہ کیسا خدا تعالیٰ کا ہم پر فضل اور احسان ہے کہ اس نے ایسی جگہ ہمیں بھیجا جہاں ہر طرح پوری آزادی کے ساتھ اپنے فرض کو ادا کر سکتے ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم اس کی نظیر دوسری جگہ نہیں پاسکتے۔لوگ اس پر تعجب کریں گے یا خام خیالی اور ظاہر پرستی کی وجہ سے میری ان باتوں کو خوشامد پر قیاس کریں گے۔مگر میں حلفاً کہتا ہوں کہ اگر یہ سلسلہ مکہ معظمہ میں جاری ہوتا تو ہر روز دو چار خون ہوتے۔ایسا ہی مدینہ یا روم میں ہوتا تو کوئی سزا پاتا، کوئی کوئی دکھ پاتا۔غرض کسی نہ کسی مصیبت کا سامنا رہتا۔ایسا ہی کابل میں ہوتا تو قسم قسم کے حملے ہوتے اور تجربہ نے ثابت بھی کر دیا ہے سب کو معلوم ہے کہ ہمارے دو معزز دوست کابل میں شہید ہو چکے ہیں۔انہوں نے وہاں کوئی بغاوت نہیں کی۔خون نہیں کیا اور کوئی سنگین جرم نہیں کیا۔صرف یہ کہا کہ جہاد حرام ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ انہوں نے اس سے زیادہ ہرگز نہیں کہا جو میںیہاں گورنمنٹ کو عیسائی مذہب کی بابت سنا چکا ہوں۔وہ نہایت نیک، راستباز اور خاموش تھے۔مولوی عبد اللطیف صاحب تو بہت ہی کم گو تھے۔۱ مگر کسی خود غرض نے جا کر امیر کابل کو کہہ دیا اور انہیں ان کے خلاف بھڑکایا کہ یہ شخص جہاد کا مخالف ہے اور آپ کے عقائد کا مخالف ہے۔اس پر وہ ایسی بے رحمی سے قتل ہوئے کہ سخت سے سخت دل بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور اس اَمر پر غور کر کے کہ وہ کیا گناہ تھا جس کے بدلہ میں وہ قتل کئے گئے بے اختیار ہر شخص کو کہنا پڑے گا کہ یہ سخت ظلم ہے جو آسمان کے نیچے ہوا ہے۔اب اس کے مقابلہ میں ہماری تیس سالہ کارروائی کو دیکھو۔بار بار پادریوں اور عیسائیوں کے مذہب پر حملہ ہوا ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ تم سخت غلطی پر ہو۔تمہاری تثلیث غلط ہے۔کفّارہ باطل ہے مگر کبھی ان مسائل کی غلطیوں کے ظاہر کرنے پر اور یہ بیان کرنے پر کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے اور یہی نجات کا ذریعہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی افضل الرسل ہیں بدر سے۔’’اور ملک میں نہایت معزز تھے اور ہزاروں آدمی ان کے مرید تھے اور دربارِ کابل میں ان کی بڑی عزّت تھی۔‘‘ (بدر جلد ۶نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۸)