ملفوظات (جلد 9) — Page 28
کہ آپؐنے آکر کیا کیا؟ اس وقت جو حالت ملک اور قوم بلکہ دنیا کی ہو رہی تھی اس کی تفصیل کی حاجت نہیں۔سب شہادت دیتے ہیں اور خود قرآن مجید نے شہادت دی ہے وہ ان میں شائع ہوتا تھا اگر کوئی اَمر جو ان کے حالات کے متعلق اس میں بیان کیا گیا ہے خلاف واقعہ ہوتا تو وہ شور مچا دیتے کہ جھوٹ کہا ہے لیکن کسی کو انکار کی گنجائش ہی نہ تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت، کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے بہت بڑی خزاں کا وقت تھا اور اسی کے مقابل میں بہار بھی وہ آئی کہ اس کی نظیر نہ پہلے ملتی ہے اورنہ آئندہ ہوگی۔اس لیے کہ آئندہ تو اسی بہار کا سماں ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قریب کا زمانہ تھا اور وہ بھی ایک بہار کا وقت تھا مگر اس وقت جو ترقی یا تبدیلی ہوئی وہ اس سے ہی ظاہر ہے کہ آپ نے بارہ آدمی تیار کئے جو بارہ حواری مشہور ہیں۔ان میں سے ایک نے جو بڑا مخلص سمجھا جاتا تھا۔تیس روپے لے کر گرفتار کرا دیا اور دوسرے نے جس کو بہشت کی کنجیاں دی گئی تھیں تین مرتبہ لعنت کی اور باقی بھاگ گئے مگر اس کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت تیار کی وہ صدق و اخلاص میں ایسی وفادار تھی کہ اس نے بھیڑ بکری کی طرح سر کٹوا دیئے۔اس سے بڑھ کر حیرت انگیز تبدیلی کیا ہوگی وہ جو ہرقسم کے عیبوں اور معاصی میں مصروف رہنے والی قوم تھی۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کے نیچے آئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ مخلصانہ پیوند کیا کہ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے اللہ ہی سے محبت کرتے تھے۔یہ دو نشان ایسے زبردست ہیں کہ جو شخص تعصب سے خالی ہو کر ان پر تدبّر کرے گا اور ضرور کرنا چاہیے اس کو ایک دفعہ اقرار کرنا پڑے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سچے نبی تھے۔مسلمانوں کی موجودہ حالت کی اصلاح کے لیے مرسل کا ظہور اب یہ زمانہ جس میں ہم ہیں اس کی حالت پر نظر کرو کون کہہ سکتا ہے کہ اس میںمسلمانوں کی اندرونی حالت میں تغیّر نہیں ہوا۔ان کی عملی اور اعتقادی حالت بگڑ گئی ہے۔ان کی اخلاقی حالت