ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 27

درختوں کے پتّے گر جاتے ہیں نہ پھل ہوتا ہے نہ پھول نہ خوشبو بلکہ خوشبو کی جگہ بد بو ہوتی ہے اور خوبصورتی کی بجائے بد صورتی ہوتی ہے لیکن پھر یک دفعہ جب بہار کا موسم آتا ہے تو پھر تدریجی طور پر سب کچھ بحال ہوجاتا ہے۔یہی سلسلہ روحانی عالم میں ہے۔جب دیکھو کہ ایمان اور اعمالِ صالحہ میں خزاں کا دور شروع ہے اور ہر طرف پھل، پھول اور پتّے تک گر رہے ہیں تب سمجھو کہ بہار آئی۔انبیاء علیہم السلام کا وقت بہار سے مشابہ ہے۔میں نے سب کتابیں دیکھی ہیں۔توریت اور انجیل کو خوب پڑھا ہے مگر میں حلفاً کہتا ہوں کہ جو ثبوت قرآن مجید نے دیا ہے۔ہرگز ہرگزکسی دوسری کتاب نے نہیں دیا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جس قدر قصے شریروں اور بدکاروں کے بیان کئے ہیں ساتھ ہی بیان کیا کہ یہ اس وقت موجود ہیں۔اس سے غرض کیا تھی؟ اصل غرض یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ جب ایک یا دو قسم کی بدیوں کے دور کرنے کے لیے رسولوں کا آنا ضروری تھا پھر جہاں اس قدر بدیاں پھیل رہی ہوں اور تمام شرارتیں جمع ہوگئی ہوں۔وہاں کیوں ضروری نہیں؟ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت حق تھی اور عین ضرورت کے وقت تھی۔یہ ان لوگوں پر حجّت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں۔وہ سوچیں کہ جو بد اعمالیاں کبھی کسی زمانہ میں پیدا ہوئیں اور ان کے لیے رسول آیا۔پھر جب ان کا مجموعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوگیا یہاں تک کہ کہنا پڑا کہ بحر و بر میں فساد پیدا ہوگیا۔اس زمانہ میں ایسی ہوا چلی ہوئی تھی کہ سب بگڑ گئے تھے۔۱ آریہ ورت کے لیے پنڈت دیانند نے شہادت دی ہے کہ وہ بھی بگڑا ہوا تھا۔جگن ناتھ اور سومنات وغیرہ بُت خانے اسی وقت کے ہیں۔گویا اتنی بڑی خزاں تھی کہ اس کی نظیر نہیں ملتی اور وہ وقت بالطبع چاہتا تھا کہ عظیم الشان مصلح پیدا ہو۔جو ان تمام فسادوں کی اصلاح کرے۔چنانچہ اس وقت کے حسب حال آپؐپیدا ہوئے۔یہ بڑا نشان ہے۔پھر یہ دیکھنا چاہیے ۱ بدر سے۔’’وہ ایسا زمانہ تھا کہ جاہل اپنی جہالت میں حد سے گذر چکے تھے اور اہل کتاب بھی بگڑ گئے تھے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۴)