ملفوظات (جلد 9) — Page 29
ہوگئی ہے۔جس پہلو سے دیکھو اور جس حیثیت سے نظر کرو اسے دیکھ کر رونا آتا ہے۔بیرونی حالت دیکھتے ہیں تو وہ اور بھی قابل افسوس ہے۔اسی ملک میں لاکھوں مرتد ہوگئے ہیں۔یہ وہ دین تھا کہ ایک بھی مرتد ہوجاتا تو قیامت آجاتی مگر اب یہ حالت ہے کہ دو چار روپیہ کے لالچ میں آکر گرجا میں جا کر مرتد ہوجاتے ہیں۔آپس میں ایک دوسرے کے حقوق تلف کرتے ہیں۔قرضہ لے کر دینے کا نام نہیں لیتے۔طرح طرح کے معاصی اور فسق و فجور میں مبتلا ہیں۔اب کیا یہ حالت زمانہ ایسی تھی کہ خدا تعالیٰ چپ رہتا اور اس کی اصلاح کے لیے کسی کو نہ بھیجتا؟ اگر وہ چپ رہتا تو پھر عذاب آتا اور اس کو تباہ کر دیتا۔مگر نہیں، اس نے اپنی رحمت سے ایک شخص کو بھیج دیا ہے جو تم ہی میں سے آیا ہے۔اس کے آنے کی غرض یہی ہے کہ تا وہ فساد مٹا دیئے جاویں جو اسلام میں اور مسلمانوں میں پیدا ہوچکے ہیں اور جنہوں نے ان کو اس ذلیل حالت تک پہنچا دیا ہے۔لیکن یاد رکھو اس کا آنا فضول ہوجاتا ہے اگر لوگ اس بات کو مضبوط نہ پکڑیں جو وہ لے کر آیا ہے صرف اتنی بات پر خوش ہوجانا کہ ہم میں ایک رسول آیا ہے کافی نہیں۔جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا۔کیا وہ اس وقت زندہ نہ تھے؟ یا موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اسرائیلیوں پر بعض عذاب آئے تو وہ ان کے ساتھ نہ تھے؟ اتنے پر خوش نہ ہو کہ ہمارے پاس خدا کا مرسل ہے جو شخص اس دھوکا میں ہے قریب ہے کہ وہ ہلاک ہوجاوے۔خدا تعالیٰ کسی کی رعایت نہیں کرتا۔یاد رکھو! اسلام ایک موت ہے۔جب تک کوئی شخص نفسانی جذبات پر موت وارد کر کے نئی زندگی نہیں پاتا اور خدا ہی کے ساتھ بولتا، چلتا، پھرتا، سنتا، دیکھتا نہیں۔وہ مسلمان نہیں ہوتا۔دیکھو! یہ چھوٹی سی بات نہیں اور معمولی اَمر نہیں کہ اس نے ایک شخص کو بھیجا اور تمہیں آنے والے عذاب سے ڈرایا۔یہ اس کا بڑا بھاری فضل اور رحمت کا نشان ہے اس کو حقیر مت سمجھو۔اس کی قدر کرو۔مجھے اس شہادت کو ادا کرنا پڑتا ہے جو میرے ذمہ ہے۔سنو! مجھے دکھایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قہری نشان نازل ہوں گے۔زلزلے آئیں گے اور طاعون کی موتیں ہوں گی اس لیے میں تمہیں اس سے پہلے کہ خدا کا عذاب نازل ہو تمہیں اور