ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 26

سمجھتے ہیں در حقیقت وہ بَلا نہیں ہوتی وہ ایلام برنگ انعام ہوتا ہے۔اس سے خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کا تعلق بڑھتا ہے اور ان کا مقام بلند ہوتا ہے اس کو دوسرے لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے لیکن جن لوگوں کا خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ہوتا اور ان کی شامت اعمال ان پر کوئی بَلا لاتی ہے تو وہ اور بھی گمراہ ہوتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے لیے فرمایا ہے فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا(البقرۃ:۱۱) پس ہمیشہ ڈرتے رہو اور خدا تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو۔تا ایسا نہ ہو کہ تم خدا سے قطع تعلق کرنے والوں میں ہو جاؤ۔جو شخص خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت میں داخل ہوتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے اس کو ایسی توفیق عطا کی۔وہ اس بات پر قادر ہے کہ ایک قوم کو فنا کر کے دوسری پیدا کرے۔یہ زمانہ لوطؑاور نوحؑکے زمانہ سے ملتا ہے۔بجائے اس کے کہ کوئی شدید عذاب آتا اوردنیا کا خاتمہ کر دیتا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم سے اصلاح چاہی ہے اور اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔بدیوں کو دور کرنے کے لیے مرسلین کا آنا ضروری ہے یہ بھی مت سمجھو کہ ہم خود ہی بدیوں سے باز آسکتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عیسائی اور یہودی موجود تھے اور توریت اور انجیل بھی موجود تھی۔پھر تم خود ہی بتاؤ کہ کیا وہ لوگ فسق و فجور اور ہر قسم کے جرائم اور معاصی سے باز آگئے تھے؟ نہیں بلکہ باوجود ان کتابوں کے موجود ہونے کے بھی وہ حدود اللہ سے نکل گئے تھے۔سنّت اللہ یہی ہے کہ جب زمین فسق و فجور سے بھر جاتی ہے تو اس کے روکنے والی قوت آسمان سے آتی ہے۔اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بھیج دیتا ہے جس کے ذریعہ لوگوں کو توبہ کی توفیق ملتی ہے۔جو یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت موجود تھے وہ ہزار سال سے ویسے ہی رہے تھے لیکن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں داخل ہوگئے وہ فرشتے بن گئے۔اگر انسان خود ہی کر سکتا تو بگڑتا ہی کیوں؟ اور پھر نبیوں کی ضرورت ہی کیا تھی؟ خدا تعالیٰ کے مرسل اسی غرض کے لیے تو آیا کرتے ہیں اور ضرور آتے ہیں۔ہاں سنّت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ جب خزاں کا وقت آتا ہے تو