ملفوظات (جلد 9) — Page 25
اور اس کی توفیق چاہو۔میں کھول کر کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میری بیعت اس لیے کرتا ہے کہ اسے بیٹا ملے یا فلاں عہدہ ملے یعنی شرطی باتوں پر بیعت کرتا ہے تو وہ آج نہیں۔کل نہیں۔ابھی الگ ہو جاوے اور چلا جاوے۔مجھے ایسے آدمیوں کی ضرورت نہیں اور نہ خدا کو ان کی پروا ہے۔یقیناً سمجھو! اس دنیا کے بعد ایک اور جہان ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔اس کے لیے تمہیں اپنے آپ کو تیار کرنا چا ہیے یہ دنیا اور اس کی شوکتیں یہاں ہی ختم ہو جاتی ہیں مگر اس کی نعمتوں اور خوشیوں کا بھی انتہا نہیں ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جو شخص ان سب باتوں سے الگ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف آتا ہے وہی مومن ہے اور جب ایک شخص خدا کا ہوجاتا ہے تو پھر یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ اسے چھوڑ دے۔یہ مت سمجھو کہ خدا ظالم ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کے لیے کچھ کھوتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ پالیتا ہے۔اگر تم خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر لو اور اولاد کی خواہش نہ کرو تو یقیناً اور ضروری سمجھو کہ اولاد مل جاوے گی۔۱ اور اگر مال کی خواہش نہ ہو تو وہ ضرور دے دے گا تم دو کوششیں مت کرو کیونکہ ایک وقت دو کوششیں نہیں ہو سکتی ہیں ایک ہی کوشش کرو کہ جس سے سب کچھ مل جاوے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو پانے کی سعی کرو۔میں پھر کہتا ہوں کہ اسلام کی اصل جڑ توحید ہے یعنی خدا تعالیٰ کے سوا کوئی چیز انسان کے اندر نہ ہو اور خدا اور اس کے رسولوں پر طعن کرنے والا نہ ہو خواہ کوئی بَلا یا مصیبت اس پر آئے۔کوئی دکھ یا تکلیف یہ اٹھائے مگر اس کے منہ سے شکایت نہ نکلے۔بَلا جو انسان پر آتی ہے وہ اس کے نفس کی وجہ سے آتی ہے خدا تعالیٰ ظلم نہیں کرتا۔ہاں کبھی کبھی صادقوں پر بھی بَلا آتی ہے مگر دوسرے لوگ اسے بَلا ۱بدر سے۔’’جو لوگ درحقیقت خدا کے واسطے دنیا کو چھوڑ دیتے ہیں خدا تعالیٰ انہیں دنیا بھی دیتا ہے۔پس تم خدا کے واسطے مال کی خواہش چھوڑ دو اور اس کے واسطے اولاد کے خیال کو ذلیل جانو تو تم کو خدامال اور اولاد سب کچھ دے گا وہ سب کچھ دیتا ہے مگر وہ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی شریک ہو۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۱ ،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۳،۱۴)