ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 321

کی اصلاح اور اس فتنہ موجودہ کا دور کرنا ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو۔اور وہ اسی زمانہ کے مطابق ضروری اصلاح کرنے کے لیے آتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں اس سے بڑھ کر فتنہ نہیں کہ ایک طرف تو ایک عاجز بندہ کو خدا بنایا جائے اور اسی کو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا سمجھا جائے اور دوسری طرف ایک صادق نبی کو جو دنیا میں سب سے بڑھ کر توحید کا حامی آیا ہے نعوذ باللہ جھوٹا قرار دیا جائے۔یہ وہ فتنہ ہے جس نے لاکھوں انسانوں کو خدا پرستی سے برگشتہ کر کے انسان پرست بنادیا اور اسی کے اثر سے اکثر لوگ دہریہ بن گئے اور توحید کی محبت دلوں میں سے جاتی رہی اور اسلام صرف برائے نام رہ گیا اور سب کے سب چھوٹے بڑے اس فتنہ عظیمہ سے اثر پذیر ہو رہے تھے۔سو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کی اصلاح کے لیے اور فتنہ کے مناسب حال جو امام اور مجدّد بھیجنا تھا اس کا نام اسی فتنہ کو دور کرنے کے لیے مسیح رکھا کیونکہ حضرت عیسٰیؑ کی امت نے ہی بگڑ کر یہ فتنہ برپا کیا ہے اس لیے اس کی اصلاح کے لیے اور زمانہ کو اس کے فتنہ سے بچانے کے لیے ضرور تھا کہ اسی نام پر کوئی پیدا کیا جاتا۔اسی مصلحت سے اس صدی کے مجدّد اور امام کا نام مسیح موعود رکھا گیا۔فتنے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک بیرونی اور دوسرے اندرونی۔بیرونی طور پر تو پادریوں اور دوسرے مخالف مذاہب والوں نے اسلام پر وہ وہ ناجائز اور بے بنیاد اعتراض کئے کہ جن کو سن کر ہزار ہا لوگ مرتد ہوگئے ہزاروں رسالے اور کتابیں اسلام کی مخالفت میں لکھی گئیں اور ہر ایک قسم کے محض غلط اعتراضوں سے اس پاک مذہب کے نابود کرنے کی کوشش کی گئی اور ایک عورت کے بچہ کو طرح طرح کے پیرایوںمیں پیش کر کے خدا کا بیٹا بنایا گیا۔یہ تو سچ ہے کہ وہ خدا کا رسول تھا مگر خدا تو نہیں تھا اور نہ اس میں اور رسولوں سے ایک ذرّہ زیادتی ہے اورنہ اس کے معجزات کچھ انوکھے معجزات ہیں اور اندرونی طور پر اسلام کو یہ فتنہ در پیش تھا کہ خود مسلمانوں نے عیسٰیؑ میں وہ وہ صفات قائم کیں جو صرف خدا کے لیے مخصوص تھیں اور اس طرح سے عیسائیوں کو بہت مدد دی۔۱