ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 322

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور جملہ انبیاء مسِّ شیطان سے پاک ہیں صبح کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بمع خدام سیر کے واسطے تشریف لے گئے۔فرمایا۔میں نے ایک مولوی صاحب کی ایک تازہ تصنیف پڑھی ہے جس میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ اور اس کی ماں مریم کے سوائے مسّ شیطان سے دنیا میں کسی کی پیدائش پاک نہیں۔صرف یہی دو نفس مریم اور ابن مریم مس شیطان سے پاک ہیں اور بس۔اس عبارت کو پڑھ کر مجھے بہت ہی افسوس ہوا کہ ہمیں تو یہ لوگ کافر کہتے ہیں اور اپنا یہ حال ہے کہ تمام انبیاء اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پاکوں کے سردار ہیں نعوذ باللہ مس شیطان سے محفوظ نہیں سمجھتے۔گویا ان کے نزدیک نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش میں شیطان کا حصہ تھا مگر حضرت عیسٰیؑ اور ان کی ماں کی پیدائش میں شیطان کا حصہ نہ تھا۔بار بار افسوس آتا ہے کہ ان لوگوں کی حالت کہاں تک پہنچ گئی ہے! اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ۔فرمایا۔یہ لوگ اپنے اس دعویٰ کی دلیل میں ایک حدیث پیش کرتے ہیں جو صحیح بخاری میں ہے اور نہیں سوچتے کہ سب سے مقدم تو قرآن شریف ہے۔قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے شیطان کو کہا کہ اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ(بنی اسـرآءیل:۶۶) میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نزدیک عباد میں شامل نہ تھے؟ اوّل تو جو حدیث قرآن شریف کے مخالف ہو وہ حدیث ہی نہیں خواہ بخاری میں ہو اور خواہ مسلم میں ہو۔دوسرا جس حدیث سے حضرت نبی کریم محمد مصطفیٰ ، حبیب خدا محبوب الٰہی کی تمام نبیوں کے سردار کی اس قدر ہتک اور توہین لازم آتی ہو کیوں کر ایک مسلمان کی غیرت مان سکتی ہے کہ اسے صحیح حدیث تسلیم کر لے۔ان لوگوں میں کچھ شرم اور حیا باقی نہیں رہی جو آنحضرتؐپر ایسے ناجائز حملے کرتے ہیں اگر ان لوگوں میں آنحضرتؐکی کچھ محبت ہوتی تو یہ لوگ اس حدیث کے یہ معنے نہ کرتے۔ہر ایک کلام کے واسطے ایک شانِ نزول ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں حضرت عیسٰیؑ اور ان کی والدہ مریم کے واسطے