ملفوظات (جلد 9) — Page 23
کیا پروا۔باوجود اس کے کہ وہ بہت ہی رحم کرنے والا ہے مگر بے نیاز بھی ہے۔نوحؑ کے وقت، لوطؑ کے وقت، موسٰی کے وقت کیا ہوا؟ کیا جو قومیں اور بستیاں اس وقت ہلاک ہوئیں وہ انسان نہ تھے؟ وہ بھی انسان تھے اور تم بھی انسان ہو لیکن جب اس نے دیکھا کہ وہ باز نہیں آتے اور حق کا انکار کرتے ہیں تو آخر خدا تعالیٰ کا قہر نازل ہوا اور آن کی آن میں انہیں مٹا دیا۔مگر یاد رکھو اور خوب یاد رکھو!! صرف اتنی ہی بات کہ ہم نے مان لیا ہے کافی نہیں ہے۔خدا تعالیٰ مجرد اقرار نہیں چاہتا۔وہ چاہتا ہے کہ جو اقرار تم نے کیا ہے اسے کر کے دکھا دو۔بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ فلاں شخص بیعت میں داخل تھا پھر وہ طاعون سے کیوں مَر گیا؟ میں کہتا ہوں کہ میں اس کا ذمہ دار ہوں کہ وہ کیوں مَرگیا؟ اپنے اندر کے طاعون سے مَر گیا۔اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز ظلّام نہیں ہے وہ اپنے سچے بندوں کو محفوظ رکھتا ہے اور ان میں اور ان کے غیروں میں فرق رکھ دیتا ہے۔مجھے ان لوگوں پر بہت ہی تعجب آتا ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے بیعت کی ہوئی تھی ہم پر یہ مصیبت کیوں آئی؟ وہ نادان نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔نری بیعت اور زبانی اقرار کیا بنا سکتا ہے؟ جب تک دل صاف نہ ہو اور اللہ تعالیٰ سے سچا پیوند قائم نہ ہو۔کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے اہل کو بچا لوں گا، لیکن جب ان کا بیٹا ہلاک ہونے لگا تو نوح علیہ السلام نے دعا کی اور اس اَمر کو پیش کیا۔خدا تعالیٰ نے اس کا کیا جواب دیا؟ یہی کہ تو جاہل مت بن وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے۔کیونکہ اس کے اعمال صالح نہیں ہیں۔گویا وہ چھپا ہوا مرتد تھا۔پھر جب انہیں اپنے ایسے بیٹے کے لیے دعا کرنے پر یہ جواب ملا تو اَور کون ہوسکتا ہے جو خدا تعالیٰ سے تو سچا تعلق پیدا نہیں کرتا اور اپنے اعمال اور حال میں اصلاح نہیں کرتا اور چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ وہ معاملہ ہو جو اس کے مخلص اور وفا دار بندوں سے ہوتا ہے۔یہ سخت نادانی اور غلطی ہے۔سچے خدا پرست بنو اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا مِنْ شُـرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّئَاتِ اَعْـمَالِنَا۔میں جانتا ہوں۔بہت سے لوگ ہیں جو چھپے ہوئے مرتد ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جو باوجود اس کے کہ وہ بیعت میں داخل ہیں اور پھر مجھے خط لکھتے ہیں کہ فلاں شخص نے