ملفوظات (جلد 9) — Page 24
مجھے کہا کہ جب تک تیرے گھر بیٹا نہ ہو وہ کیوں کر سچا ہو سکتا ہے؟ یہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ کیا خدا نے مجھے اس لیے بھیجا ہے کہ میں لوگوں کو بیٹے دوں؟ کسی کے گھر بیٹا ہو یا بیٹی مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں اور نہ میں اس لیے بھیجا گیا ہوں۔میں تو اس (لیے) آیا ہوں کہ تا لوگوں کے ایمان درست ہوں۔پس جو لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے ایمان درست ہوں اور خدا تعالیٰ سے ان کا سچا تعلق پیدا ہو ان کو میرے ساتھ تعلق رکھنا چاہیے خواہ بیٹے مَریں یا جئیں۔۱ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے۔اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ(الانفال:۲۹) جو لوگ ایسے خطوط لکھتے ہیں یا اپنے دل میں ایسے خیالات رکھتے ہیں وہ یاد رکھیں اور خوب یاد رکھیں کہ وہ مجھ پر نہیں خدا تعالیٰ پر اعتراض کرتے ہیں۔یقیناً سمجھو کہ میرے پیچھے آنا ہے اور سچے مسلمان بننا ہے تو پہلے بیٹوں کو مار لو۔بابا فریدؒ کا مقولہ بہت صحیح ہے کہ جب کوئی بیٹا مَر جاتا تو لوگوں سے کہتے کہ ایک کتورہ (کتی کا بچہ ) مَرگیا ہے اس کو دفن کر دو۔پس کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا نہیں کر سکتا جب تک باوجود اولاد کے بے اولاد نہ ہو اور باوجود مال کے دل میں مفلس و محتاج نہ ہو اور باوجود دوستوں کے بے یارومددگار نہ ہو۔یہ ایک مشکل مقام ہے جو انسان کو حاصل کرنا چاہیے۔اسی مقام پر پہنچ کر وہ سچا خدا پرست بنتا ہے۔یہ جو قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ میں شرک نہیں بخشوں گا۔اس کا مفہوم نادانوں نے اتنا ہی سمجھ لیا ہے کہ اس سے بُت پرستی مراد ہے۔نہیں اتنی ہی بات نہیں بلکہ اس سے وہ سب محبوب مراد ہیں جو انسان اپنے لیے بنا لیتا ہے ایسے لوگ دیکھے گئے ہیں کہ جب انہیں ذرا بھی تکلیف یا مصیبت پہنچے یا کوئی اولاد مَر جاوے تو فوراً خدا تعالیٰ سے تعلق توڑ بیٹھتے ہیں اور شکوہ اور شکایت کرنے لگتے ہیں۔یہ سخت مشرک اور اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں۔پس تم ایسے مت بنو اور اس قسم کے خیالات کو دل سے نکال دو اور اس کی ترکیب یہی ہے کہ نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ اپنی نمازوں میں دعائیں کرو ۱بدر سے۔’’نہ کہ لوگ مرید ہو کر آزمائش کیا کریں کہ بیٹے پیدا ہوتے ہیں یا کہ نہیں۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۳)