ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 22

ماتحت ایسے انسان کا درد و سوزش ہر آن بڑھتی جاوے گی۔یہاں تک کہ آخر اس کی سوزش و اضطراب اس کے لیے وہ وقت لے آوے کہ وہ نجات پا جاوے۔اور یہ جو پہلے میں نے بیان کیا ہے قیام، رکوع اور سجود کے متعلق، اس میں انسانی تضرّع کی ہیئت کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔پہلے قیام کرتا ہے۔جب اس پر ترقی کرتا ہے تو پھر رکوع کرتا ہے اور جب بالکل فنا ہوجاتا ہے تو پھر سجدہ میں گر پڑتا ہے۔میں جو کچھ کہتا ہوں صرف تقلید اور رسم کے طور پر نہیں بلکہ اپنے تجربہ سے کہتا ہوں بلکہ ہر کوئی اس کو اس طرح پر پڑھ کر اور آزما کر دیکھ لے۔۱ اس نسخہ کو ہمیشہ یاد رکھو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ کہ جب کوئی دکھ یا مصیبت پیش آوے تو فوراً نماز میں کھڑے ہو جاؤ اور جو مصائب اور مشکلات ہوں ان کو کھول کھول کر اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرو کیونکہ یقیناً خدا ہے اور وہی ہے جو ہر قسم کی مشکلات اور مصائب سے انسان کو نکالتا ہے وہ پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہے۔اس کے سوا کوئی نہیں جو مددگار ہو سکے۔بہت ہی ناقص ہیں وہ لوگ کہ جب ان کو مشکلات پیش آتی ہیں تو وکیل، طبیب یا اَور لوگوں کی طرف تو رجوع کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا خانہ بالکل خالی چھوڑ دیتے ہیں۔مومن وہ ہے جو سب سے اوّل خدا تعالیٰ کی طرف دوڑے۔یہ اَمر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ ہو اور رجوع نہ کرو تو اس سے اس کی ذات میں کوئی نقص پیدا نہیں ہو سکتا اور وہ تمہاری کچھ بھی پروا نہیں رکھتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُ كُمْ(الفرقان:۷۸) یعنی ان کو کہہ دو کہ میرا ربّ تمہاری پروا کیا رکھتا ہے اگر تم سچے دل سے اس کی عبادت نہ کرو۔جیسا کہ وہ رحیم و کریم ہے ویسا ہی وہ غنی بے نیاز بھی ہے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ طاعون نے کیا کیا اور زلزلوں نے کیا دکھایا؟ گھروں کے گھر اور شہروں کے شہر تباہ ہوگئے اور ہزاروں لاکھوں خاندان ہمیشہ کے لیے مٹ گئے مگر اللہ تعالیٰ کو اس کی (بقیہ حاشیہ) پانچوں حالتوں کی یاد میں جو کہ اس پر آنے والی ہیں وہ روزانہ خدا تعالیٰ کے حضور میں دعائیں کرتا ہے کہ وہ ان مشکلات سے بچایا جاوے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۳) ۱ بدر سے۔’’وہ بڑا بد قسمت ہے جو اس نسخہ کو آزما کر نہیں دیکھتا اور اس سے فائدہ حاصل نہیں کرتا۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۳)