ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 308

میں فیصلہ کر لیتا ہےا ور دکھ کے لیے تیار رہتا ہے تب پھر خدا بھی ملتا ہے اور روحانی فائدہ بھی ہوتا ہے۔یہی سنّت اللہ ہے اور جب سے دنیا پیدا ہوئی اور انبیاء کا سلسلہ شروع ہوا بغیر دکھ اور تکالیف کے برداشت کر نے کے خدا راضی نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی دین حاصل ہوتا ہے۔بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کسی جنتر منتر یا پھونک سے ہی ہمیں اولیاء اللہ بنا دیویں اور ایک زندگی کی روح پھونک دیویں۔مگر خدا تو پہلے ذبح کر لیتا ہے اور پھر زندہ کرتا ہے بلکہ ایسے ایسے امتحانوں اور آزمائشوں کے وقت انسان خود بھی معلوم کر لیتا ہے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو پہلے تھا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ایسے امتحانوں میں پورا اترنے کے بعد خدا ضرور ملتا ہے۔جب تک انسان خدا کی راہ میں تکالیف اور مصائب برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوجاتا۔تب تک ترقی کی امید بھی نہیں ہو سکتی۔نماز بھی اضطرابی حالت کوظاہر کرتی ہے دیکھو! یہ جو نماز پڑھی جاتی ہے اس میں بھی ایک طرح کا اضطراب ہے۔کبھی کھڑا ہونا پڑتا ہے، کبھی رکوع کرنا پڑتا ہے، کبھی سجدہ کرنا پڑتا اور پھر طرح طرح کی احتیاطیں کرنی پڑتی ہیں۔مطلب یہی ہوتا ہے کہ انسان خدا کے لیے دکھ اور مصیبت کو برداشت کرنا سیکھے ورنہ ایک جگہ بیٹھ کر بھی تو خدا کی یاد ہو سکتی تھی۔پر خدا نے ایسا منظور نہیں کیا۔صلوٰۃ کا لفظ ہی سوزش پر دلالت کرتا ہے۔جب تک انسان کے دل میں ایک قسم کا قلق اور اضطراب پیدا نہ ہو اور خدا کے لیے اپنے آرام کو نہ چھوڑے تب تک کچھ بھی نہیں۔ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ فطرتاً اس قسم کے ہوتے ہیں جو ان باتوں میں پورے نہیں اتر سکتے اور پیدائشی طور پر ہی ان میں ایسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جو وہ ان امور میں استقلال نہیں دکھا سکتے مگر تاہم بھی توبہ اور استغفار بہت کرنی چاہیے کہ کہیں ہم ان میں ہی شامل نہ ہوجاویں جو دین سے بالکل بے پروا ہوتے ہیں اور اپنا مقصود بالذّات دنیا کو ہی سمجھتے ہیں۔ہر زمانہ کی آزمائشیں الگ الگ ہوتی ہیں ہر ایک زمانہ میں علیحدہ علیحدہ امتحان اور آزمائشیں ہوا کرتی ہیں۔صحابہ رضی اللہ عنہم