ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 309

نے تو خدا کی راہ میں جانیں دی تھیں اور اپنے سر کٹوائے تھے اور دوسرے نبیوں کے زمانہ میں کسی اور قسم کے ہی دکھ اور مصائب تھے۔غرض جب تک انسان ابتلاؤں اور آزمائشوں میں پورا نہیں اترتا تب تک ترقی نہیں کرتا اور مقبول حضرت احدیت نہیں ہوتا۔بغیر تکلیفوں اور طرح طرح کے مصائب کے تو کچھ بنتا ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ پر بد ظنّی مت کرو یاد رکھو! اللہ تعالیٰ رحیم کریم ہے۔اس پر بدظنی نہیں کرنی چاہیے جو اس کی سنّت کو نگاہ میں رکھے گا اور اس کے لیے دکھ اور تکالیف کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاوے گا وہ ضرور کامیاب ہوگا۔اگر اس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہیں چلے گا اور بخل سے کام لے گا تو رہ جاوے گا۔دیکھو! فوجوں میں جو لوگ بھرتی ہوتے ہیں اور دنیا کی خاطر لڑنے مَرنے اور جان دینے کے لیے نوکر ہوتے ہیں وہ کوئی ہزاروں روپیہ تو تنخواہ نہیں پاتے۔یہی دس بارہ روپیہ کی خاطر جان دینا قبول کر لیتے ہیں مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ خدا کی خاطر اور اس دائمی بہشت اور دائمی خوشنودی کے لیے کوئی فکر نہیں کرتے۔دائمی سکھ کے لیے کوشش کرنی چاہیے جب دنیا کے لیے ایسےایسے کام کر لیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ حقیقی آرام اور ہمیشہ کے سکھ کے لیے اتنی کوشش نہیں کی جاتی؟ اصل میں ایسے لوگ خدا کی اور خدا کے انعام و اکرام کی قدر نہیں کرتے۔اگر اس کی قدر کرتے تو جان کیا چیز تھی جو قربان کرنے کے لیے تیار نہ ہوجاتے۔اصلی زندگی اور حقیقی سکھ تو ہے ہی وہ جو خدا کی راہ میں مَرنے سے حاصل ہوتا ہے۔حقیقی زندگی تو اپنے آپ پر ایک موت وارد کر لینے سے ہی ملا کرتی ہے ایسے لوگ جو جنتروں منتروں اور ٹونوں ٹوٹکوں کی تلاش میں پھرتے رہتے ہیں دین کے لیے کوشش کرنا چاہتے ہی نہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ بڑے آرام سے اور گھر بیٹھے بٹھائے قلب کی صفائی حاصل ہوجاوے۔اصل میں جھوٹے قصوں اور کہانیوں نے ان لوگوں کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اور ایسی باتوں سے انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ دین ایک ایسی چیز ہے جو جنتروں منتروں اور تعویذوں سے حاصل ہو سکتا ہے۔اسی واسطے ان لوگوں نے بعض بعض ریاضتیں بھی مقرر