ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 307

کرتا ہے۔نہ رات کو آرام کرتا ہے اور نہ دن کو۔بلکہ جب بہت سی مشکل کے بعد فصل پک بھی جاتا ہے اس وقت بھی اس کے حاصل کرنے کے لیے کیا کیا مصائب اٹھاتا ہے اور اپنے عیال و اطفال سے علیحدگی اختیار کر کے اسے کاٹتا اور اس کو حاصل کرنے کے لیے کیسے کیسے دکھ اٹھاتا ہے۔اور اس دنیا کے لیے جو آج ہے اور کل فنا ہوجائے گی، مارامارا پھرتا اور مصیبت پر مصیبت اور دکھ پر دکھ اٹھاتا ہے تو کیا پھر دین ہی ایسی چیز ہے جو محض پھونک مارنے سے حاصل ہوجاتا ہے اور اس میں کسی امتحان آزمائش اور محنت کی ضرورت نہیں؟ دین کے لیے محنت کی ضرورت دین کے لیے ایسی توقع کرنا اور اس کو ایک حلوہ بے دُود کی طرح سمجھنا کسی طرح بھی ٹھیک نہیں۔صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ پر غور کرو کہ انہوں نے دین کی خاطر کیسے کیسے مصائب اٹھائے اور کن کن دکھوں میں وہ مبتلا ہوئے نہ دن کو آرام کیا نہ رات کو۔خدا کی راہ میں ہر ایک مصیبت کو قبول کیا اور جان تک قربان کر دی اور دین کی خاطر سر کٹوا دیئے۔مجھے اس وقت یاد آگیا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دشمن کے مقابلہ پر ایسے موقع پر نکلے کہ دوپہر کا وقت اور گرمی کا موسم تھا۔سخت گرمی اور تپش تھی۔لُو چلتی اور تیز دھوپ پڑتی تھی چلتے چلتے ایک نہایت ہی خوشگوار اور سر سبز و شاداب چشمے پر پہنچے۔ایک صحابیؓ نے ایسی خوشگوار سر سبز اور ہری بھری جگہ دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے اجازت دی جاوے کہ اس جگہ پر عبادت کروں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا توبہ کرو کیا تو نہیں جانتا کہ یہ سب مصیبت ہم خدا کی خاطر برداشت کر رہے ہیں ایسی خوشکن جگہ پر آرام کر کے عبادت کرنے کا تو کوئی فائدہ نہیں۔ذبح ہونے کے بعد زندگی ملتی ہے وہ تو بندگی ہی نہیں جو دکھ درد کے ساتھ نہیں۔ہندوؤں کے گروؤں کی طرح کسی تالاب یا عمدہ حوض کے کنارے پر بیٹھ کر بآرام زندگی بسر کرنا اور سرسبز ہری بھری جگہ پر لیٹ کر خدا کی یاد کرنے سے کچھ نہیں بنتا۔چاہیے کہ ابتلاؤں اور امتحانوں میں ثابت قدم رہو اور خدا کے لیے جان دینے میں بھی فرق نہ رکھو اور اس کی راہ میں قربان ہونے کے لیے ہر وقت تیار رہو۔جب انسان اپنے دل