ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 303

کا لحاظ رکھے اور نماز کو ایسی صورت میں بہت لمبا نہ کرے۔داڑھی بڑھانا اور مونچھیں کٹانا مستحسن ہے داڑھی اور مونچھ کے متعلق ذکر آیا کہ نئے نئے فیشن نکلتے ہیں۔کوئی داڑھی منڈاتا ہے کوئی ہر دو داڑھی اور مونچھ منڈاتا ہے۔حضرت نے فرمایا۔مستحسن یہی بات ہے جو شریعت اسلام نے مقرر کی ہے کہ مونچھیں کٹائی جاویں اور داڑھی بڑھائی جاوے۔۱ ۲؍اکتوبر ۱۹۰۷ء (بوقتِ سیر) جھوٹا مباہلہ کرنے والا سچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے ہماری جماعت کے ایک شخص نے کسی غیر احمدی کا سوال پیش کیا کہ آپ نے اپنی تصانیف میں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوجاتا ہے یہ درست نہیں کیونکہ مسیلمہ کذّاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فوت ہوا تھا۔حضرت اقدس نے فرمایا۔یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مَر جاتا ہے۔ہم نے تو اپنی تصانیف میں ایسا نہیں لکھا۔لاؤ پیش کرو وہ کون سی کتاب ہے جس میں ہم نے ایسا لکھا ہے۔ہم نے تو یہ لکھا ہوا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجاتا ہے۔مسیلمہ کذّاب نے تو مباہلہ کیا ہی نہیں تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا فرمایا تھا کہ اگر تو میرے بعد زندہ بھی رہا تو ہلاک کیا جائے گا سو ویسا ہی ظہور میں آیا۔مسیلمہ کذّاب تھوڑے ہی عرصہ بعد قتل کیا گیا اور پیشگوئی پوری ہوئی۔یہ بات کہ سچا جھوٹے۲ کی زندگی میں مَر جاتا ہے یہ بالکل غلط ہے۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۲کاتب کی غلطی ہے۔دراصل یہ فقرہ یوں ہونا چاہیے۔’’یہ بات کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مَر جاتا ہے یہ بالکل غلط ہے‘‘ چنانچہ سیاق و سباق میں اس کی وضاحت موجود ہے۔(مرتّب)