ملفوظات (جلد 9) — Page 304
کے سب اَعدا ان کی زندگی میں ہی ہلاک ہوگئے تھے؟ بلکہ ہزاروں اَعدا آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے تھے۔ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے والا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا کرتا ہے۔ایسے ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مَرنے کے بعد زندہ رہیں گے اور مخالفوں کے وجود کا قیامت تک ہونا ضروری ہے جیسے وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ( اٰلِ عـمران:۵۶) سےظاہر ہے۔ہم تو ایسی باتیں سن سن کر حیران ہوتے ہیں۔دیکھو! ہماری باتوں کو کیسے الٹ پلٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور تحریف کرنے میں وہ کمال حاصل کیا ہے کہ یہودیوں کے بھی کان کاٹ دیئے ہیں۔کیا یہ کسی نبی، ولی، قطب، غوث کے زمانہ میں ہوا کہ اس کے سب اَعدا مَر گئے ہوں؟ بلکہ کافر منافق باقی رہ ہی گئے تھے۔ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ سچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں تو وہ سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوتے ہیں جیسے کہ ہمارے ساتھ مباہلہ کرنے والوں کا حال ہو رہا ہے۔جماعت کو خود سوچ کر عام سوالوں کا جواب دینا چاہیے مجھے تو اپنی جماعت پر افسوس ہوتا ہے کہ کیا ان میں اتنی عقل بھی نہیں کہ ایسے اعتراض کرنے والے سے پوچھیں کہ یہ ہم نے کہاں لکھا ہے کہ بغیر مباہلہ کرنے کے ہی جھوٹے سچے کی زندگی میں تباہ اورہلاک ہوجاتے ہیں؟ وہ جگہ تو نکالو جہاں یہ لکھا ہے۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ عقل میں، فہم میں ہر طرح سے ترقی کریں اور ایسی باتوں کا خود سوچ کر جواب دیا کریں اور اپنی ایمانی روشنی سے ان باتوں کو حل کیا کریں۔مگر دنیا داری کے دھندوں میں مت ماری جاتی ہے۔اتنا نہیں کر سکتے کہ معترض سے ہماری کتاب کی وہ جگہ ہی پوچھیں جہاں یہ لکھا ہے کہ سچے کی زندگی میں سب جھوٹے مَر جاتے ہیں۔بلکہ جھوٹے تو قیامت تک رہیں گے۔مبلّغین کے لیے حضرت اقدس کی کتب کے مطالعہ کی اہمیت فرمایا۔اس تحریک سے مجھےیہ بھی یاد آگیا ہے کہ وہ لوگ جو اشاعت اور تبلیغ کے واسطے باہر جاویں۔وہ ایسے نہ ہوں کہ الٹ پلٹ کر