ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 248

سے پہلے ھوالشّافی لکھنا شروع کر دیا اور یہ طریق مسلمانوںکے سوا کسی نے بھی اختیار نہیں کیا۔بڑا سعید طبیب وہ ہے جو ایک طرف تو دوا کرے اور دوسری طرف دعا میں مشغول رہے اور یہ سمجھے کہ شفا صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔دوسروں پر رحم کرو تا تم پر رحم کیا جاوے فرمایا۔شیخ سعدیؒ لکھتے ہیں کہ ’’ایک بادشاہ کو ناروا کی بیماری تھی۔اس نے کہا کہ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ کریم مجھے شفا بخشے۔تو میں نے جواب دیا کہ آپ کے جیل خانہ میں ہزاروں بےگناہ قید ہوں گے ان کی بد دعاؤں کے مقابلہ میں میری دعا کب سنی جا سکتی ہے۔تب اس نے سب قیدیوں کو رہا کر دیا اور پھر وہ تندرست ہوگیا۔‘‘ غرض خداکے بندوں پر اگر رحم کیا جاوے تو خدا بھی رحم کرتا ہے۔جو لوگ دوسروں پر رحم کرتے ہیں ان پر اللہ اور اس کے رسول کو بھی رحم آجاتا ہے۔دوسروں کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش آنا اور بے جا طور پر مال اکٹھا کرنا اور اسباب پر ہی گرے رہنا بہت بُری بات ہے۔تقویٰ اختیار کریں فرمایا۔گو اعادہ کلام کا ہوتا ہے مگر چونکہ غفلت لگی ہوئی ہے۔ایک طرف وعظ و نصیحت سنی جاتی ہے اور دل میں تقویٰ حاصل کرنے کے لیے جوش پیدا ہوتا ہے مگر پھر غفلت ہوجاتی ہے۔اس لیے ہماری جماعت کو یہ بات بہت ہی یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی حالت میں نہ بھلایا جاوے۔ہر وقت اسی سے مدد مانگتے رہنا چاہیے۔اس کے بغیر انسان کچھ چیز نہیں۔خوب یاد رکھو کہ وہ ایک دم میں فنا کر سکتا ہے۔طرح طرح کے دکھ اور مصیبتیں موجود ہیں۔بے خوف اور نڈر ہونے کا مقام نہیں۔اس دنیا میں بھی جہنم ہو سکتا ہے اور بڑے بڑے مصائب آسکتے ہیں۔خوب یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی کسی کی مصیبت میں کام نہیں آسکتا۔اور کوئی شریک ہمدردی نہیں کر سکتا جب تک خدا خود دستگیری نہ کرے اور اپنے فضل سے آپ اس مصیبت کو دور نہ کرے۔اسی واسطے ہر ایک کو چاہیے کہ خدا کے ساتھ پوشیدہ علاقہ رکھے۔جو شخص جرأت کے ساتھ گناہ، فسق و فجور اور معصیت میں مبتلا ہوتا ہے وہ خطرناک حالت میں ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کا عذاب اس کی تاک میں ہوتا ہے۔اگر بار بار اللہ کریم کا رحم چاہتے ہو تو تقویٰ