ملفوظات (جلد 9) — Page 247
۱۴؍ستمبر ۱۹۰۷ء (بوقت ظہر) ھوالشّافی سید نادر علی شاہ صاحب سب رجسٹرار رئیس چکوال کے بیعت کر لینے کے بعد ذکر امراض پر فرمایا۔قبرستان میں جتنے لوگ دفنائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اصل میں یہ سب طبیبوں کی غلطیوںکا ہی نتیجہ ہے بہت کم آدمی ہوں گے جو عمر طبعی تک پہنچے ہوں۔عمر طبعی عموماً سو اَسی سال تک سمجھی جاتی ہے۔حدیث شریف میں لکھا ہے۔مَا مِنْ دَآءٍ اِلَّا لَہٗ دَوَآءٌ یعنی کوئی بیماری نہیں جس کی دوائی موجود نہ ہو اگر اصلی دوا اور علاج ہوتا رہے تو عمر طبعی سے پہلے انسان مَرے کیوں؟ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ انسان ایک نہایت ہی کمزور ہستی ہے۔ایک ہی بیماری میں باریک در باریک اَور بیماریاں شروع ہو جاتی ہیں۔انسان غلطی سے کب تک بچ سکتا ہے۔انسان بڑا کمزور ہے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔اکثر اوقات تشخیص میں ہی غلطی ہوجاتی ہے اور اگر تشخیص میں نہیں ہوئی تو پھر دوا میں ہو جاتی ہے۔غرض انسان نہایت کمزور ہستی ہے غلطی سے خود بخود نہیں بچ سکتا۔خدا کا فضل ہی چاہیے۔اس کے فضل کے بغیر انسان کچھ چیز نہیں۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دافع بلیات تو صرف خدا تعالیٰ ہے۔ہندو تو پتھروں کی پوجا کرتے ہیں۔کبھی نہ کبھی خیال آ ہی جاتا ہوگا کہ اپنے ہی ہاتھوں سے انہیں بنایا ہے اور پھر انہیں کی پوجا کی جاتی ہے۔مگر اسباب کی پرستش کرنے والے ان سے بھی زیادہ مشرک ہوتے ہیں۔نیچری وغیرہ جو اسباب پر بھروسہ کرتے ہیں اور وہ جو اپنی علمیت و دولت پر گھمنڈ کرتے ہیں وہ خطرناک مقام پر ہوتے ہیں۔ہاں اسباب کا تلاش کرنا منع نہیں۔قرآن شریف میںلکھا ہے کہ جب جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اپنے کام کاج کی تلاش میں لگ جاؤ اور اللہ کریم کا فضل مانگتے رہو۔اسباب پر بھروسہ مت کرو۔مومن کو چاہیے کہ بظاہر اسباب تلاش کرے اور نظر اللہ تعالیٰ پر رکھے۔علم طب پہلے یونانیوں کے پاس تھا۔پھر ان سے مسلمانوں کے ہاتھ آیا تو انہوںنے ہر نسخہ