ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 241

رازق اللہ تعالیٰ ہے فرمایا۔اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔وہ ہر طرح سے اور ہرجگہ سے اپنے پر توکل کرنے والے شخص کے لیے رزق پہنچاتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکل کرے میں اس کے لیے آسمان سے برساتااور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔پس چاہیے کہ ہرایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔بیوی پر ظلم کا نتیجہ ایک صاحب کا ذکر تھا۔فرمایا۔ان کے مجھ کو بہت سے خطوط آئے ہیں کہ میں اکثر بیمار رہتا ہوں اور بہت کمزور ہوگیا ہوں یہاں تک کہ میں اپنا کام بھی اچھی طرح نہیں کر سکتا اور اس لیے مجبوراً مجھے ایک لمبی رخصت لینی پڑے گی مگر اصل بات یہ ہے کہ ظلم کا نتیجہ ہمیشہ خراب ہوتا ہے۔وہ اپنی پہلی بیوی پر بہت کچھ سختی کرتے ہیں اور یہ کام خدا کو ناپسند ہے۔بہت دفعہ مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے ان کو نصیحت کی۔مگر وہ سمجھتے نہیں۔میں نے کنایتاً کئی دفعہ ان کو جتایا ہے مگر انہوں نے کوئی خیال نہیں کیا۔مگر اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔ضرور ہے کہ وہ کسی دن اپنے کام سے پچھتائیں اور میری بات کو سمجھیں۔۱ ۱۰؍ستمبر۱۹۰۷ء (قبل نماز ظہر) ابتلاؤں کی برکات فرمایا۔اصل میں دیکھا گیا ہے کہ ابتلا اور تکالیف کا زمانہ جو انسان پر آتا ہے وہ اس کے واسطے بہت مفید ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں قاعدین پر مجاہدین کو فضیلت دی ہے۔مجاہدین دو قسم کے ہیں ایک وہ جو اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے راہ میں مشکل کام ڈال لیتے ہیں اور اس کی تکالیف کو برداشت کرتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جن پر قضاء و قدر سے مشکلات اور تکالیف وارد ہوتی ہیں اور وہ صبر اور تحمل کے ساتھ ان مشکلات کو برداشت کرتے ہیں۔جو شخص رات دن اپنے کھانے پینے میں مصروف رہتے ہیں اور اسی طرح ان کی زندگی گذر جاتی ہے اور ان پر کوئی تلخی نہیں آتی کہ وہ صبر کریں تو وہ قاعدین میں داخل ہیں۔۱ بدر جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۰۷ءصفحہ ۷