ملفوظات (جلد 9) — Page 242
جس زمانہ کو انسان بسبب تلخی کے بُرا زمانہ کہتا ہے اور اس کو ناگوار جانتا ہے اور نہیں چاہتا کہ ویسا زمانہ اس پر آوے دراصل وہی زمانہ اس کے واسطے اچھا ہوتا ہے بشرطیکہ صبر اور تحمل سے بسر کرے۔حسن بصریؒ کا ذکر ہے کہ کسی نے اس سے پوچھا کہ تم کو غم کب ہوتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ جب کوئی غم نہ ہو۔سوچ کر دیکھ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب تلخ زندگی مصائب شدائد کی انسان پر پڑتی ہے اور وہ ان کو برداشت کرتا ہے تو اس کے بعد پوشیدہ انعامات وارد ہوتے ہیں۔دنیا کی وضع ہی کچھ ایسی بنی ہے کہ اوّل تکلیف ہوتی ہے تو پھر آرام حاصل ہوتا ہے۔اچھی طرح کھانے کا مزا اسی وقت ہوتا ہے جبکہ انسان بھوک کی شدت کو برداشت کر چکا ہو جو مزا ٹھنڈے پانی میں روزے دار کو حاصل ہوتا ہے وہ دوسرے کو کہاں نصیب ہو سکتا ہے؟ معمولی طور پر ہر روز کھایا جاتا ہے مگر اس میں وہ لطف نہیں جو لطف اس کھانے میں ہوتا ہے جو مثلاً سفر کے بعد بھوک کی شدت سے حاصل ہوتا ہے۔وضع دنیا کی ایسی واقع ہوئی ہے کہ درد کے بعد ہی راحت حاصل ہوتی ہے۔۱ ۱۱؍ستمبر ۱۹۰۷ء (قبل نماز ظہر ) فطرت مستقل ہادی نہیں فطرت ایسی چیز نہیں جو مستقل طور پر ہادی ہو سکے کیونکہ وہ شیطان کے قائم مقام مُضِل بھی تو ہوجاتی ہے۔فطرت میں توہمات کے داخل ہوجانے سے جو بعض نقص پیدا ہو جاتے ہیں اسی وجہ سے كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ(الروم:۳۳) کہا گیا ہے۔مداہنہ بُری مرض ہے کمبخت مکہ والے لوگ بھی مداہنہ کیا کرتے تھے۔فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا(البقرۃ:۱۱) کے یہی معنے ہیں۔کمبخت خبیث جو مداہنہ کا گند اپنے اندر رکھتے ہیں ان کا گند نکالنا اچھا ہی ہوتا ہے۔۱ بدر جلد ۶ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۲؍ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۴نیز الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۹