ملفوظات (جلد 9) — Page 202
بہت طاعون تھی اور اگرچہ اب آرام ہے تاہم جائے امن نہیں۔کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ لوگ اصلاحِ عمل کی طرف توجہ نہیں کرتے اور جب تک کہ اصلاح عمل نہ ہوگا یہ عذاب دور نہ ہوگا۔پہلے پہل جبکہ طاعون سے بچنے کے واسطے ٹیکے کی تجویز کی گئی تھی اور بڑے زور شور سے ہر جگہ ٹیکہ لگایا جاتا تھا۔اس وقت ہم نے بھی ایک کتاب بنام کشتی نوح لکھی تھی جس میں ہم نے یہ بات ظاہر کی تھی کہ اس بیماری سے بچنے کا اصلی اور حقیقی علاج یہ ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔اس وقت ایک انگریز اور ایک دیسی افسر جو کہ آئی۔اے۔سی تھا ہر دو ٹیکہ لگانے کے واسطے قادیان میں بھی آئے تھے تب ہم نے اپنی کتاب کا ایک نسخہ اس کو بھیجا تھا جس کو اس دیسی افسر نے پڑھ کر اس انگریز کو سنایا۔اس کو سن کر انگریز نے کہاکہ سچ تو یہی ہے جو اس کتاب میں لکھا ہے باقی تو سب حیلے ہی ہیں اصلی علاج یہی ہے۔غرض خدا سے جو ڈرتا ہے خدا اس پر رحم کرتا ہے۔میں حیران ہوں کہ میں یہ باتیں کس طرح لوگوں کے دلوں میں ڈال دوں کیونکہ یہ آسمانی اور روحانی باتیں ہیں۔اور زمینی لوگ ان کو نہیں سمجھ سکتے۔ابھی یہ عذاب ختم ہونے والا نہیں ہے جب تک لوگ اپنی اصلاح نہ کریں۔خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوتا رہے گا۔خالی ان ظاہری حیلوں سے کچھ نہیں بنتا خواہ چوہوں کو مارا جائے خواہ مچھروں کو اور خواہ کوؤں کو۔جب تک کہ لوگ خدا کی طرف نہ جھکیں گے ان پر کس طرح پر رحم ہو سکے گا۔ایک گاؤں کے متعلق لکھا تھا کہ وہ بالکل ویران ہوگیا۔پرانی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعون نے بعض جگہ شہروں کے شہر بالکل ویران کر دیئے اور جب سب آدمی مَر گئے تب یہ بیماری جانوروں پر پڑی اور جب وہ بھی مَر گئے تو پھر جنگل کے سانپوں پر پڑی اور وہ ہلاک ہو کر بالکل ویرانہ رہ گیا۔صدہا کوس تک آبادی کا نام و نشان مٹ گیا۔خدا کے رحم کے سوائے کہیں گذارہ نہیں۔جو لوگ دردِ دل کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں۔خدا ان پر اپنا رحم کرتا ہے اور ان کو ہرایک شر سے