ملفوظات (جلد 9) — Page 201
ہوگئے تو ان کے بعد کسی کو زندہ نہ سمجھے۔صحابہ کرامؓ کس قدر درد و اَلم میں تھے جب مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( اٰلِ عـمران:۱۴۵) سنا تو سب کو ٹھنڈ پڑ گئی۔مگر یاد رکھو ان وعظوں سے کچھ نہیں بنتا جب تک ساتھ دعا اور اپنا عملی نمونہ نہ ہو۔ہر جمعہ کس قدر مولوی سر کھپاتے ہیں مگر خاک بھی اثر نہیں ہوتا۔کیوں؟ اس لیے کہ جو کچھ کہتے ہیں ان کا خود اس پر عمل نہیں۔جتنے پیغمبر دنیا میں آئے ان میں سے کسی نے بھی وعظوں پر اتنا سر نہیں مارا۔جتنا دعا و عملی نمونہ کام دیتا ہے سو اسے میسر لانے کی کوشش کرو۔۱ ۱۴؍جولائی ۱۹۰۷ء طاعون سے بچنے کا حقیقی علاج حضرت ام المؤمنین بمع صاحبزادگان و اقارب و خدام اٹھارہ کس بغرض تبدیل ہوا ۴؍جولائی ۱۹۰۷ء کو لاہور کی طرف روانہ ہوئے تھے اور ۱۴؍جولائی ۱۹۰۷ء کو بروز اتوار ایک بجے دن کے بٹالہ میں واپس پہنچ گئے۔اس واسطے حضرت اقدس بمع چند خدام کے ۱۴؍جولائی کی صبح کو بٹالہ تک تشریف لے گئے تھے۔چونکہ گرمی کا موسم ہے اس واسطے صبح سویرے پانچ بجے کے قریب یہاں سے روانہ ہوئے۔آپ پالکی میں بیٹھے ہوئے تھے بہت سے عاشقانہ مزاج خدّام پالکی کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے بٹالہ تک گئے۔قریب دس بجے کے آپ بٹالہ میں پہنچے۔بٹالہ کے شریف اور لائق تحصیلدار جناب رائے جسمل صاحب کا شکریہ ہے کہ جب ان کو شیخ صاحب سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت اقدس تشریف لاتے ہیں اور چند گھنٹہ وہاں قیام کریں گے تو انہوں نے اسٹیشن کے پاس ہی اپنے مکان کے متصل ایک عمدہ آرام کی جگہ مہیا کر دی۔تحصیلدار صاحب خود بھی حضرت کی ملاقات کے واسطے تشریف لائے۔اثناء گفتگو میں انہوں نے فرمایا کہ میں شہر سے باہر اسی جگہ رہتا ہوں۔حضرت نے فرمایا کہ اسی جگہ رہنا بہتر ہے کیونکہ شہر میں اکثر بیماری کا خوف ہوتا ہے اور گذشتہ موسم میں بٹالہ میں بہت