ملفوظات (جلد 9) — Page 185
ٹک ٹک کی آواز آئی۔میں نے آدمیوں کو جگایا کہ شہتیر خوفناک معلوم ہوتا ہے یہاں سے نکل جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کوئی چوہا ہوگا کچھ خوف کی بات نہیں۔اور یہ کہہ کر پھر سو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر ویسی ہی آواز سنی۔تب میں نے ان کو دوبارہ جگایا مگر پھر بھی انہوں نے کچھ پروا نہ کی۔پھر تیسری بار شہتیر سے آواز آئی۔تب میں نے ان کو سختی سے اٹھایا اور سب کو مکان سے باہر نکالا اور جب سب نکل گئے تو خود بھی وہاں سے نکلا۔ابھی میں دوسرے زینہ پر تھا کہ وہ چھت نیچے گری اور دوسری چھت کو بھی ساتھ لے کر نیچے جا پڑی۔اور چارپائیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں اور ہم سب بچ گئے۔یہ خدا تعالیٰ کی معجزہ نما حفاظت ہے جب تک کہ ہم وہاں سے نکل نہ آئے شہتیر گرنے سے محفوظ رہا۔(۳) ایسا ہی ایک دفعہ ایک بچھو میرے بسترے کے اندر لحاف کے ساتھ مَرا ہوا پایا گیا اور دوسری دفعہ ایک بچھو لحاف کے اندر چلتا ہوا پکڑا گیا۔مگر ہر دو بار خدا تعالیٰ نے مجھے ان کے ضرر سے محفوظ رکھا۔(۴) ایک دفعہ میرے دامن کو آگ لگ گئی تھی۔مجھے خبر بھی نہ ہوئی۔ایک اور شخص نے دیکھا اور بتلایا اور اس آگ کو بجھا دیا۔خدا تعالیٰ کے پاس کسی کے بچانے کی ایک راہ نہیں بلکہ بہت راہیں ہیں۔آگ کی گرمی اور سوزش کے واسطے بھی کئی ایک اسباب ہیں اور بعض اسباب مخفی در مخفی ہیں۔جن کی لوگوں کو خبر نہیں اور خدا تعالیٰ نے وہ اسباب اب تک دنیا پر ظاہر نہیں کئے جن سے اس کی سوزش کی تاثیر جاتی رہے۔پس اس میں کون سے تعجب کی بات ہے کہ حضرت ابراہیمؑ پر آگ ٹھنڈی ہوگئی۔۱ بلاتاریخ اگر آپ کو طاعون ہے تو ہمارا سلسلہ ہی جھوٹا ہے ایک دفعہ مولوی محمد علی صاحب کو طاعون کے ایام میں سخت تپ چڑھا جو یہاں تک شدید تھا کہ انہوں نے سمجھا کہ مجھ کو طاعون ہوگیا ہے اور اس خیال کا ان پر اس قدر