ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 184

بلاتاریخ حضرت ابراہیمؑ کے لیے آگ کا ٹھنڈا کیا جانا ایک دوست کا خط حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ حضرت ابراہیمؑ پر جو آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی آیا وہ فی الواقع آتش ہیزم تھی یا کہ فتنہ و فساد کی آگ تھی۔حضرت نے فرمایا۔فتنہ و فساد کی آگ تو ہر نبی کے مقابل میں ہوتی ہے اور وہی ہمیشہ کوئی ایسا رنگ اختیار کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک معجزہ نما طاقت اپنے نبی کی تائید میں اس کے بالمقابل دکھاتا ہے۔ظاہری آتش کا حضرت ابراہیمؑ پر فرو کر دینا خدا تعالیٰ کے آگے کوئی مشکل اَمر نہیں اور ایسے واقعات ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔حضرت ابراہیمؑ کے متعلق ان واقعات کی اب بہت تحقیقات کی ضرورت نہیں کیونکہ ہزاروں سالوں کی بات ہے۔ہم خود اس زمانہ میں ایسے واقعات دیکھ رہے ہیں اور اپنے اوپر تجربہ کرر ہے ہیں۔معجزات حفاظت کے چند واقعات (۱) ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ میں سیالکوٹ میں تھا تو ایک دن بارش ہو رہی تھی۔جس کمرہ کے اندر میں بیٹھا ہوا تھا اس میں بجلی آئی سارا کمرہ دھوئیں کی طرح بھر گیا اور گندھک کی سی بو آتی تھی، لیکن ہمیں کچھ ضرر نہ پہنچا اسی وقت وہ بجلی ایک مندر میں گری جو کہ تیجا سنگھ کا مندر تھا اور اس میں ہندوؤں کی رسم کے مطابق طواف کے واسطے پیچ در پیچ ارد گرد دیوار بنی ہوئی تھی اوروہ اندر بیٹھا ہوا تھا۔بجلی ان تمام چکروں میں سے ہو کر اندر جا کر اس پر گری اور وہ جل کرکوئلہ کی طرح سیاہ ہوگیا۔دیکھو وہی بجلی کی آگ تھی جس نے اس کو جلا دیا مگر ہم کو کچھ ضرر نہیں دے سکی۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی۔(۲) ایسا ہی سیالکوٹ کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ رات کو میں ایک مکان کی دوسری منزل میں سویا ہوا تھا اور اسی کمرہ میں میرے ساتھ پندرہ سولہ اور آدمی بھی تھے۔رات کے وقت شہتیر میں