ملفوظات (جلد 9) — Page 186
اثر پڑا کہ مفتی محمد صادق صاحب کو بُلا کر وصیت بھی لکھوانی شروع کر دی۔اتفاقاً یہ خبر مجھ کو ملی اور میں ان کی عیادت کے لیے گیا تو ان کے اس خیال کو دور کرنے کے لیے میں نے کہہ دیا کہ آپ کو قطعاً طاعون نہیں۔اگر آپ کو طاعون ہے تو ہمارا سلسلہ ہی جھوٹا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے صاف کہہ دیا ہے کہ میں ہر ایک شخص کو جو اس چار دیواری میں ہے اس مرض سے بچاؤں گا اور یہ کہہ کر میں نے ان کی نبض جو دیکھی تو تپ کا کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔(منقول از تشحیذ الاذہان) مسلمانوں کی یہود سے نسبت جہاد کی ممانعت کی نسبت جو نظم درثمین میں شائع ہوچکی ہے اس میں ایک شعر ہے۔؎ اب زندگی تمہاری تو سب فاسقانہ ہے مومن نہیں ہو تم کہ قدم کافرانہ ہے اس کی نسبت فرمایاکہ دیکھو! آجکل ہر طرح کا فسق و فجور پھیلا ہوا ہے اور مسلمانوں کی پہلی سی حالت نہیں رہی۔ان کے ہاتھوں سے سلطنت بھی اسی لیے چھینی گئی ہے کہ انہوں نے خدا کو چھوڑ دیا۔خدا تعالیٰ تو کسی کا رشتہ دار نہیں کہ وہ باوجود اس کے بگڑ جانے کے پھر بھی اس کی پاسداری کرتا چلا جاوے۔چونکہ یہودیوں سے مسلمانوں کو نسبت ہے اس لیے ان کی طرح ان پر بھی دو دفعہ سخت عذاب آنا ضروری تھا۔چنانچہ ایک دفعہ تو تب ان پر عذاب آیا جبکہ ہلاکو خان نے حملہ کر کے بغداد کو تباہ کیا اور مسلمانوں کو اس قدر ہلاک کیا کہ صرف بغداد میں کہتے ہیں کہ چھ لاکھ انسان قتل ہوا۔اس وقت کے مسلمانوں کی حالت اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ ایک بزرگ کے پاس لوگ اکٹھے ہوئے اور کہا کہ خدا سے دعا کیجئے گا کہ وہ ہم کو اس عذاب سے نجات دے اور یہ طوفان تھم جائے۔انہوں نے فرمایا کہ کم بختو! تمہاری وجہ سے ہم بھی اس عذاب میں پھنس گئے میں دیکھتا ہوں کہ فرشتے کھڑے کہتے ہیں یَآ اَیُّـھَا الْکُفَّارُ اُقْتُلُوا الْفُجَّارَ یعنی اے کافرو! ان فاجروں کو قتل کرو۔پس وہی حالت اس وقت دوبارہ ہوگئی ہے اور انگریزوں کی حکومت بھی جو کہ مذہب کی رو سے کافر ہیں ہندوستان میں اسی لیے ہوئی ہے کہ مسلمان خود فاجر ہوگئے ہیں اور خدا کے رحم کو حاصل کرنے کے لائق نہیں ہیں اور میرے اس شعر کا