ملفوظات (جلد 9) — Page 183
دیکھتے ہیں مگر کچھ پروا نہیں کرتے۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ اپنے فعل کو عبث نہیں جانے دے گا۔جو اس کے فعل کو عملی رنگ میں عبث قرار دیتے ہیں وہ ضرورپکڑے جاویں گے۔موسٰی کے زمانہ کی طرح ایک نشان سے بڑھ کر دوسرا نشان دکھایا جاتا ہے مگر ان کی فرعونیت فرعون سے بھی بڑھ گئی۔اپنی تدبیروں پر بھروسہ رکھتے ہیں۔مگر دیکھو کیسی الٹی منہ پر پڑتی ہے۔رائے ظاہر کی کہ طاعون اب رو بہ کمی ہے۔اس کا کیڑا مَر چکا ہے۔مگر دیکھو کہ اس سال تمام پچھلے سالوں سے بڑھ کر مَری پڑی اور آئندہ دیکھئے کیا ہوتا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے بھی بڑھ کر پڑے گی۔بعض عیسائیوں کی درخواستوں کا تذکرہ تھا جو ضلالت کی ظلمات سے نکل کر ہدایت کے نور میں آنا چاہتے ہیں۔فرمایا۔کسی کی غرض دین ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے سب سامان مہیا کر دیتا ہے۔بیکار لوگ جو کسی کام کے نہ ہوں۔صرف کھانے پینے اور روپیہ جمع کرنے کی فکر میں ہوں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ایسے لوگ بعد میں تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی رحیمیت پر اعتراض کا جواب لاہور کا دہریہ اپنے اخبار جیون تت میں مختلف حوادث سماوی اور طاعون سے بعض جگہ آدمیوں کے تلف ہونے پر خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت پر اعتراض کرتا ہے اور نادان کو اتنا خیال نہیں آتا کہ گورنمنٹ کسی بدمعاش کو جیل خانہ بھیجتی ہے یا کسی مجرم کو پھانسی کا حکم دیتی ہے تو کیا کبھی کسی دانا نے گورنمنٹ کو ظالم یابے رحم قرار دیا ہے؟ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دینا خود رحم ہے۔کیا نادان دہریہ کے نزدیک جیل کے داروغے اور سیشن کورٹ کے جج سب ظالم اور سفاک ہیں؟ اور محکمات سب بند کر دینے چاہئیں؟۱