ملفوظات (جلد 9) — Page 182
۱۴؍مئی ۱۹۰۷ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکسار ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ حضور نے حقیقۃ الوحی کے لکھنے اور پروفوں کے باربار پڑھنے میں بہت محنت اٹھائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ باربار حضور کی طبیعت علیل ہوجاتی ہے اب حضور چند روز بالکل آرام فرماویں اور پڑھنے لکھنے کے کام کو بالکل ترک فرماویں۔حضرت نے جواب میں فرمایا۔ہماری محنت ہی کیا ہے۔ہمیں تو شرم آتی ہے جبکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی محنتوں کی طرف نگاہ کرتے ہیں کہ کس طرح خوشی کے ساتھ انہوں نے خدا کی راہ میں اپنے سر بھی کٹوا دیئے۔۱ بلاتاریخ غسّال کے پیچھے نماز ایک شخص نے حضرت سے سوال کیا کہ غسال کو نماز کے واسطے پیش امام بنانا جائز ہے؟ فرمایا۔یہ سوال بے معنے ہے۔غسّال ہونا کوئی گناہ نہیں۔امامت کے لائق وہ شخص ہے جو متّقی ہو۔نیکو کار، عالم باعمل ہو۔اگر ایسا ہے تو غسّال ہونا کوئی عیب نہیں جو امامت سے روک سکے۔۲ ۱۸؍مئی ۱۹۰۷ء (بوقت ظہر) خواب میں بادل کا دیکھنا فرمایا۔میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ بادل چڑھا ہے۔میں ڈرا ہوں مگر کسی نے کہا کہ تمہارے لیے مبارک ہے۔قرآن کریم سے بھی ثابت ہے کہ عذاب کو بادل کے رنگ میں دکھایا جاتا ہے۔یہ لوگ نشان پر نشان