ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 175

امتیاز کو ظاہر کرتا ہے۔پیشگوئیوں میں اخفا ضروری ہے فرمایا۔پیشگوئی میں کسی قدر اخفا اور متشابہات کا ہونا بھی ضروری ہے اور یہی ہمیشہ سے سنّتِ الٰہی ہے۔ملاکی نبی اگر اپنی پیشگوئی میں صاف لکھ دیتا کہ الیاس خود نہ آئے گا بلکہ اس کا مثیل تو حضرت عیسیٰ کے ماننے میں اس قدر دقّتیں اس زمانہ کے علماء کو پیش نہ آتیں۔ایسا ہی اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو پیشگوئیاں تورات اور انجیل میں ہیں وہ نہایت ظاہر الفاظ میں ہوتیں کہ آنے والا نبی آخرالزمان اسمٰعیلؑ کی اولاد میں سے ہوگا اور شہر مکہ میں ہوگا تو پھر یہودیوں کو آپ کے ماننے سے کوئی انکار نہ ہوسکتا تھا، لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ ان میں متقی کون ہے جو صداقت کو اس کے نشانات سے دیکھ کر پہچانتا اور اس پر ایمان لاتا ہے۔کسی احمدی کا طاعون سے مَرنا فرمایا۔مخالفین کا یہ اعتراض کہ بعض ہماری جماعت کے آدمی طاعون سے کیوں مَرتے ہیں بالکل ناجائز ہے۔ہم نے کبھی کوئی ایسی پیشگوئی نہیں کی کہ ہمارے ہاتھ پر بیعت کرنے والا کوئی شخص کبھی طاعون میں گرفتار نہ ہوگا۔ہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ اوّل طبقہ کے لوگ اس قسم کی بیماری میں گرفتار ہو کر نہیں مَرتے۔کوئی نبی، صدیق، ولی کبھی طاعون سے ہلاک نہیں ہوا۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی طاعون ہوئی تھی مگر کیا حضرت عمرؓ پر بھی اس کا کوئی اثر ہوا تھا؟ عظیم الشان صحابہؓ میں سے کوئی طاعون میں گرفتار نہیں ہوا۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر گذرا ہے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی طاعون سے مَرا ہے؟ ہاں اس میں شک نہیں کہ ایسی بیماری کے وقت بعض ادنیٰ طبقہ کے مومنین (طاعون) میں گرفتار ہوتے ہیں مگر وہ شہید ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی کمزوریوں اور گناہوں کو اس طرح سے غفر کرتا ہے جیسا کہ ان جہادوں میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفّار کے ساتھ کئے۔اگرچہ پہلے سے پیشگوئی تھی کہ ان جہادوں میں کفّار جہنم میں گرائے جائیں گے۔تاہم بعض مسلمان بھی قتل کئے گئے مگر اعلیٰ طبقہ کے صحابہ مثلاً حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ جیسوں میں سے کوئی