ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 174

فرمایا۔ایک وقت تھا کہ ہم نے خود اپنی کتاب میں استخارہ لکھا تھا کہ لوگ اس طرح سے کریں تو خدا تعالیٰ ان پر حق کو کھول دے گا۔مگر اب استخاروں کی کیا ضرورت ہے جبکہ نشاناتِ الٰہی بارش کی طرح برس رہے ہیں اور ہزاروں کرامات اور معجزات ظاہر ہوچکے ہیں۔کیا ایسے وقت میں استخاروں کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے؟ کھلے نشانات کو دیکھ کر پھر استخارہ کرنا خدا تعالیٰ کے حضور میں گستاخی ہے۔کیا اب جائز ہے کہ کوئی شخص استخارہ کرے کہ اسلام کا مذہب سچا ہے یا جھوٹا اور استخارہ کرے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے سچے نبی تھے یا نہیں تھے۔اس قدر نشانات کے بعد استخاروں کی طرف توجہ کرنا جائز نہیں۔۱ ۵؍مئی ۱۹۰۷ء اظہار غیب فرمایا۔آج قرآن شریف کی آیت شریفہ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ(الـجن:۲۷،۲۸) سے مجھے ایک نکتہ خیال میں آیا اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اس کے غیب کا اظہار سوائے برگزیدہ رسولوں کے اور کسی پر نہیںہوتا۔اس میں سوچنے کے لائق لفظ اظہار ہے اظہار سے مراد یہ ہے کہ کھلا کھلا غیب کثرت کے ساتھ کسی پر کھولا جائے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف متشابہات کے طور پر تھوڑا سا غیب تو گاہے گاہے کسی دوسرے پر بھی کھولا جاتا ہے۔مگر اس میں محکم بات نہیں ہوتی اور اس کے واسطے شرط نہیں کہ جس پر کھولا جائے وہ مومن ہو یا کافر ہو۔ہر ایک مذہب کے آدمی کو یہ حالت گاہے حاصل ہو سکتی ہے کہ کوئی تھوڑی سی بات مشتبہ یا غیر مشتبہ اس کو غیب سے مل جائے۔یہ سب کچھ ہو سکتا ہے، لیکن منع صرف اظہار علی الغیب کی ہے۔اظہار کا لفظ اس کی کیفیت اور کمیت پر دلالت کرتا ہے یعنی وہ غیب کی خبر مصفّٰی ہو۔شک اور شبہ سے پاک ہو اور دوسرا کثرت سے ہو جس سے ظاہر ہو کہ یہ خارق عادت اور معجزہ نما ہے اس آیت سے خود ظاہر ہوتا ہے کہ رسولوں کے سوائے دوسرے لوگوں کو بھی غیب کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے مگر ان کے غیب میں اظہار کا رنگ نہیں ہوتا۔اظہار کا لفظ ایک خاص