ملفوظات (جلد 9) — Page 154
نبی کے مخالفین کی تباہی کا وقت ان سب کی تہہ میں وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ(ابراھیم:۱۶) کا قانون کام کر رہا ہے۔ہر نبی پہلے صبر کی حالت میں ہوتا ہے۔پھر جب ارادۂ الٰہی کسی قوم کی تباہی سے متعلق ہوتا ہے تو نبی میں درد کی حالت پیدا ہوتی ہے۔وہ دعا کرتا ہے۔پھر اس قوم کی تباہی یا خیر خواہی کے اسباب مہیا ہوجاتے ہیں۔دیکھو! نوح علیہ السلام پہلے صبر کرتے رہے اور بڑی مدت تک قوم کی ایذائیں سہتے رہے۔پھر ارادۂ الٰہی جب ان کی تباہی سے متعلق ہوا تو درد کی حالت پیدا ہوئی اور دل سے نکلا رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا(نوح:۲۷) جب تک خدا تعالیٰ کا ارادہ نہ ہو وہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال پہلے صبر کرتے رہے۔پھر جب درد کی حالت پیدا ہوئی تو قتال کے ذریعہ مخالفین پر عذاب نازل ہوا۔خود ہماری نسبت دیکھو جب یہ شبھ چنتک جاری ہوا تو اس کا ذکر تک بھی نہیں کیا گیا۔مگر جب ارادۂ الٰہی اس کی تباہی کے متعلق ہوا تو ہماری توجہ اس طرف بے اختیار ہوگئی اور پھر تم دیکھتے ہو کہ رسالہ ابھی اچھی طرح شائع بھی نہ ہونے پایا کہ خدا کی باتیں پوری ہوگئیں۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ بعض اولیاء اللہ کو صفت خلق یا تکوین دی گئی۔اس سے یہی مراد ہے کہ وہ ان کی دعا کا نتیجہ ہوتا ہے اور الٰہی صفت ایک پردہ میں ظاہر ہوتی ہے۔اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا یہ عیسائی اور آریہ کہتے ہیں کہ شمشیر کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کئے۔ہم کہتے ہیں یہ بھی ایک دو برس تلوار چلا کر دیکھیں کوئی ان کے مذہب میں داخل ہوتا ہے یا نہیں۔ایمان جو ایک قلبی معاملہ ہے ہم نہیں سمجھ سکتے تلوار کے ذریعہ کیوں کر کسی کو شرح صدر حاصل ہو سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کی حکمت اس میں بھی خدا کی حکمت ہے کہ فلاں فلاں مسلمان عالم ہمارے سلسلہ میں داخل نہیں۔اگر یہ داخل ہوتے تو خدا جانے کیا کیا فتنے برپا کرتے۔لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ(الانفال:۲۴) یہ وہ وقت ہے جس کی تمام نبیوں نے خبر دی کہ اس وقت عام تباہی ہوگی اور کوئی ایسی آفت باقی نہ رہے گی جو دنیا پر نازل نہ ہو۔تضرّع کا مقام ہے۔