ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 153

خدا نے اسے ایسا مسافر بنایاکہ پھر کبھی واپس نہ آیا۔فرعون کہنے والے مَرتے جاتے ہیں ایسا ہی وہ تمام لوگ جو مجھے فرعون کہتے تھے، ہلاک ہوگئے۔محی الدین لکھوکے والے نے اپنا الہام شائع کیا تھا کہ مرزا صاحب فرعون ہیں۔چراغ الدین نے بھی مجھے فرعون لکھا تھا۔الٰہی بخش نے بھی مجھے فرعون لکھا۔مگر یہ عجیب فرعون ہے کہ پہلا فرعون تو موسیٰ کے مقابلہ میں ہلاک ہوگیا تھا اور یہاں فرعون تو زندہ ہے اور موسیٰ دن بدن ہلاک ہوتے جاتے ہیں۔نزولِ بَلا کا وقت فرمایا۔حدیثوں سے ثابت ہے کہ نزولِ بَلا عموماً رات کے وقت اور بعد مغرب تاریکی پھیلنے کے وقت ہوتا ہے۔۱ خدا تعالیٰ کے فعل پر اعتراض کرنا گستاخی ہے فرمایا۔خدا تعالیٰ کے فعل پر اعتراض کرنا بڑی گستاخی ہے۔یہ لوگ کس گنتی میں ہیں۔ایک نبی (یونسؑ) بھی صرف لَنْ اَرْجِعَ اِلٰی قَوْمِیْ کَذَّابًا کہنے سے زیر عتاب ہوا دراصل خدا تعالیٰ کے کسی فعل پر شرح صدر نہ رکھنا بھی ایک مخفی اعتراض ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوتا ہے۔وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ(القلم:۴۹) ایسے امور میں مخاطب تو انبیاء ہوتے ہیں مگر در اصل سبق امت کو دینا منظور ہوتا ہے ہمارے بارے میں حق کے فیصلہ کے لیے کس قدر کھلی ہوئی راہ ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں جس کی نظیر اگلی امتوں میں موجود نہیں۔دیکھو مسیح کی دوبارہ آمد کا مسئلہ ایلیا کی آمد سے کیسا صاف ہوجاتا ہے۔یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ اس پر دونوں قوموں کا باوجود اختلاف کے اتفاق ہے جیسا مسیح کے صلیب پر چڑھایا جانے کے بارے میں۔آتھم جب رجوع والی شرط سے فائدہ اٹھا کر پندرہ ماہ میں نہ مَرا تو خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے نے کیا عمدہ جواب دیا کہ بعض اشخاص آسمان پر مَر جاتے ہیں اور اللہ کا ولی اس کو مُردہ دیکھ لیتا ہے مگر دوسرے عوام الناس اس معرفت تک نہیں پہنچتے اور اعتراض کرتے ہیں۔