ملفوظات (جلد 9) — Page 155
۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء (بوقتِ سیر) غلام دستگیر قصوری کا مباہلہ غلام دستگیر قصوری کے بارے میں ذکر تھا کہ بعض مخالفین کہتے ہیں۔اس نے کب مباہلہ کیا؟ حضور نے فرمایا کہ یہ جو اس نے لکھا فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا(الانعام:۴۶) کا مصداق بنا۔اس فقرے کے اس کے سوا اور کیا معنے ہوسکتے ہیں کہ وہ ظالم کی ہلاکت کا خدا تعالیٰ سے خواستگار ہے اب اللہ تعالیٰ کے فعل نے بتا دیا کہ ظالم کون ہے۔قرآن مجید میں بھی لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ( اٰل عـمران:۶۲) آیا ہے۔یوں کھول کر تو نہیں کہا گیا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر عذاب نازل ہو۔گو اس کا مفہوم یہی ہے مگر یہ عبارت نہیں۔ایسا ہی وہاں جو قصوری نے اپنی کتاب میں لکھا تو اس کا مطلب یہی تھا۔پھر بطریق تنزل ہم مان لیتے ہیں کہ اس نے صرف ہمارے لیے بد دعا کی مگر اب بتاؤ کہ اس کی دعا کا اثر کیا ہوا، کیا وہ الفاظ جومیرے حق میں کہے اور وہ دعا جو میرے برخلاف کی الٹی اس پر ہی نہیں پڑی۔اب بتاؤ کہ کیا مقبولانِ الٰہی کا یہی نشان ہے کہ جو دعا وہ نہایت تضرّع و ابتہال سے کریں اس کا الٹا اثر ہو اور اثر بھی یہ کہ خود ہی ہلاک ہو کر اپنے کاذب ہونے پر مہر لگا جاویں۔خصوصاً ایسے شخص کے مقابل میں جسے وہ مفتری اور کیا کیا سمجھتا ہے۔دراصل وہ مجمع البحار والے کی مثال دے کر خود اس کا قائم مقام بننا چاہتا تھا اور اگر مجھے کوئی نقصان پہنچ جاتا تو بڑے لمبے لمبے اشتہار شائع ہوتے لیکن خدا نے دشمن کو بالکل موقع نہ دیا کہ وہ کسی قسم کی خوشی منائے۔اس بات کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے میرے بر خلاف بد دعا کی اور خدا سے میری جڑ کے کٹ جانے کی درخواست کی۔لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی جڑ کٹ گئی اور مجھے روز افزوں ترقی حاصل ہوئی۔کیا یہ متعصب مخالف کے لیے عبرت کا مقام نہیں؟ افسوس کہ یہ لوگ ذرا بھی غور وفکر سے کام نہیں لیتے۔قرآن مجید کی وہ آیت یہاں کیسی صادق آرہی ہےکہ يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ عَلَيْهِمْ