ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 146

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۶ جلد نهم اس جگہ کو چھوڑ دو اور کسی اونچے پہاڑ پر چلے جاؤ۔ چنانچہ اس سے محفوظ ہو گئی ۔ اس وقت ایک شخص نے اعتراض بھی کیا کہ کیا آپ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ فرمایا۔ میں ایک تقدیر خداوندی سے دوسری تقدیر خداوندی کی طرف بھاگتا ہوں وہ کون سا امر ہے جو خدا تعالیٰ کی تقدیر سے باہر ہے۔ فرمایا۔ خدا تعالیٰ نے دو وعدے اپنی وحی کے طاعون سے بچانے کے دو وعدے ذریعہ سے کئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس گھر کے رہنے والوں کو طاعون سے بچائے گا جیسا کہ اس نے فرمایا ہے کہ إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ دوسرا وعدہ اس کا ہماری جماعت کے متعلق ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ( ترجمہ ) جن لوگوں نے مان لیا ہے اور اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کو نہ ملایا۔ ایسے لوگوں کے واسطے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے کہ جماعت کے وہ لوگ بچائے جائیں گے جو پورے طور سے ہماری ہدایتوں پر عمل کریں اور اپنے اندرونی عیوب اور اپنی غلطیوں کی میل کو دور کر دیں گے اور نفس کی بدی کی طرف نہ جھکیں گے بہت سے لوگ بیعت کر کے جاتے ہیں مگر اپنے اعمال درست نہیں کرتے ۔ صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کیا بنتا ہے۔ خدا تو دلوں کے حالات سے واقف ہے۔ لے بلا تاریخ سوال ہوا کہ طاعون کا اثر ایک دوسرے پر پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں ہمدردی اور احتیاط طبیب کے واسطے کا حکم ہے؟ فرمایا۔ طبیب اور ڈاکٹر کو چاہیے کہ وہ علاج معالجہ کرے اور ہمدردی دکھائے لیکن اپنا بچاؤ رکھے۔ بیمار کے بہت قریب جانا اور مکان کے اندر جانا اس کے واسطے ضروری نہیں ہے وہ حال معلوم ے بدر جلد ۶ نمبر ۱۴ مورخہ ۴ را پریل ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷