ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 3

نے کسی دوسری قوم پر ظلم کیا اور بہ سبب ظلم کے ان کو یا ان کے بچوں کو قتل کیا تو خدا تعالیٰ کا عذاب ضرور ان پر نازل ہوا اور خدا نے اس سلطنت اور قوم کو ہلاک کر دیا۔لیکن ہمیشہ سے جانور ذبح کیے جاتے ہیں جو لاکھوں کروڑوں ہوتے ہیں اور خود ان قوموں کے درمیان ہوتے ہیں جو کہ فاتح قومیں ہیں اور اس وجہ سے ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوتا۔فرمایا۔خدا تعالیٰ کے نام بے نیازی کے بھی ہیں اور وہ رحم بھی کرنے والا ہے۔لیکن میرا عقیدہ یہی ہے کہ اس کی رحمت غالب ہے انسان کو چاہیے کہ دعا میں مصروف رہے۔آخر کار اس کی رحمت دستگیری کرتی ہے۔۱ ۷؍نومبر ۱۹۰۶ء حالتِ زمانہ ذکر تھا کہ ہر ایک شخص جو فی زمانہ بڑا بننا چاہتا ہے یا شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اپنی عزّت کے حصول کے ذرائع میں یہ ایک ضروری جزو قرار دیتا ہے کہ سلسلہ حقّہ کے ساتھ کچھ نہ کچھ عداوت کا اظہار کرتا رہے۔حضرت نے فرمایا۔ان لوگوں کی مثال اس پٹھان کی طرح ہے جس کے متعلق رافضی کہا کرتے ہیں کہ اس کو کسی شیعہ نے کہا کہ سنی تو وہ ہوتا ہے جو حضرت علیؓ کے ساتھ بمقدار جَو بغض رکھتا ہو تو اس نے جواب دیا کہ الحمد للہ! من بمقدارِ خربوزہ دارم۔یہی حال ان لوگوں کا ہے۔جس کو دیکھو ہمارے ساتھ بڑھ چڑھ کر بغض رکھنے میں فخر کرتا ہے۔دجّال فرمایا۔حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دجّال گرجے سے نکلے گا۔وہ ایک ہزار برس تک دَیر (یعنی گرجے) میں مقید تھا۔اس کے بعد وہ دنیا میں نکلا اور مسلمانوں کے برخلاف اپنی کوششوں کو شروع کیا۔حدیثوں میں اس کا نام دجّال آیا ہے اور پہلی کتابوں میں اس کو اژدہا اور شیطان کر کے لکھا ہے۔دراصل وہ ایک ہی ہے اور گرجے سے نکلنے کے الفاظ صفائی کے ساتھ ظاہر کرتے ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۴۵ مورخہ ۸؍نومبر ۱۹۰۶ءصفحہ ۴