ملفوظات (جلد 9) — Page 4
ہیں کہ وہ کون ہے اور کہاں رہتا ہے اور اس کی کیا کرتوت ہے۔آنے والا مصلح فرمایا۔آنے والے مصلح اور مجدّد کے مختلف نام پہلی کتابوں میں لکھے ہیں مطلب ان سب کا ایک ہی ہے اور ایک ہی آدمی کی طرف سب اشارے ہیں۔مسیح، مہدی، ایک فارسی الاصل شخص وغیرہ۔مگر سب سے عظیم الشان کام جو اس کا ہے یعنی گمشدہ ایمان کا دوبارہ قائم کرنا، اس کے لحاظ سے اس کو اسی اُمّت کا ایک شخص فارسی الاصل کہہ کر بیان کیا گیا ہے کہ اگر ایمان تمام جہان سے مفقود ہو کر ثریا پر بھی چلا گیا ہوگا تب بھی وہ اس کو واپس زمین پر قائم کر دے گا۔دو قسم کے کام ہوتے ہیں ایک رفع شر کے اور دوسرے جلب خیر کے۔اس جگہ جلب خیر کے کام کا ذکر کرتے ہوئے اسے اس امت کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔مولوی محمد علی صاحب کی تعریف ریویو آف ریلیجنـز کا ذکر تھا۔ایک صاحب نے تعریف کی کہ اس کے مضامین نہایت اعلیٰ ہوتے ہیں۔فرمایا۔اس کے ایڈیٹر مولوی محمد علی صاحب ایک لائق اور فاضل آدمی ہیں۔ایم۔اے پاس ہیں اور اس کے ساتھ دینی مناسبت رکھتے ہیں۔ہمیشہ اول درجہ پر پاس ہوتے رہے ہیں اور ای۔اے۔سی میں ان کا نام درج تھا۔مگر سب باتوں کو چھوڑ کر یہاں بیٹھ گئے۔یہی سبب ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کی تحریر میں برکت ڈالی ہے۔ترکِ دنیا فرمایا۔ترک دنیا کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان سب کام کاج چھوڑ کر گوشہ نشینی اختیار کر لے۔ہم اس بات سے منع نہیں کرتے کہ ملازم اپنی ملازمت کرے اور تاجر اپنی تجارت میں مصروف رہے اور زمیندار اپنی کاشت کا انتظام کرے، لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان کو ایسا ہونا چاہیے کہ دست در کار و دل بہ یار۔انسان خدا تعالیٰ کی رضا مندی پر چلے۔کسی معاملہ میں شریعت کے برخلاف کوئی کام نہ کرے۔جب خدا مقدم ہو تو اسی میں انسان کی نجات ہے۔دنیا داروں کو مداہنہ کی عادت بہت بڑھ