ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 105

آنحضرت کے زمانہ میں اور کچھ دیگر سلاطین کے زمانہ میں۔ایک شخص کا قصہ ہے کہ اس نے ایک یہودی کو بہت نصیحت کی کہ تو مسلمان ہوجا۔اس یہودی نے جواب دیا کہ میں جانتا ہوں کہ اسلام کوئی آسان مذہب نہیں۔صرف منہ سے کہہ دینا کوئی بڑی بات نہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔میں نے ایک اپنے بیٹے کا نام خالد رکھا تھا یعنی ہمیشہ رہنے والا اور دوسرے دن کو اس کو گاڑ بھی آیا تھا۔پس صرف نام رکھانے سے کچھ نہیں ہوتا۔مگر انسان کا نام رکھا ہوا اگر خطا جاتا ہے تو خدا کا نہیں۔خدا جس کا نام رکھتا ہے وہی ٹھیک ہوتا ہے۔خواب اور تعبیر ایک دفعہ ہمارے والد صاحب نے ایک خواب دیکھا کہ آسمان سے تاج اترا اور انہوں نے فرمایا یہ تاج غلام قادر کے سر پر رکھ دو(آپ کے بڑے بھائی) مگر اس کی تعبیر اصل میں ہمارے حق میں تھی جیسا کہ اکثر دفعہ ہوجاتا ہے کہ ایک عزیز کے لیے خواب دیکھو اور وہ دوسرے کے لیے پوری ہوجاتی ہے۔اور دیکھو کہ غلام قادر تو وہی ہوتا ہے جو قادر کا غلام اپنے آپ کو ثابت بھی کر دے اور انہیں دنوں میں مجھ کو بھی ایسی ہی خوابیں آتی تھیں۔پس میں دل میں سمجھتا تھا کہ یہ تعبیر الٹی کرتے ہیں۔اصل میں اس سے مَیں مراد ہوں۔سید عبد القادر جیلانیؒ نے بھی لکھا ہے کہ ایک زمانہ انسان پر ایسا آتا ہے کہ اس کا نام عبد القادر رکھا جاتا ہے جیسا کہ میرا نام بھی خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے عبدالقادر رکھا ہے۔حقہ نوشی فرمایا کہ انسان عادت کو چھوڑ سکتا ہے بشرطیکہ اس میں ایمان ہو اور بہت سے ایسے آدمی دنیا میں موجود ہیں جو اپنی پرانی عادات کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ جو ہمیشہ سے شراب پیتے چلے آئے ہیں بڑھاپے میں آکر جبکہ عادت کا چھوڑنا خود بیمار پڑنا ہوتا ہے بلاکسی خیال کے چھوڑ بیٹھتے ہیں اور تھوڑی سی بیماری کے بعد اچھے بھی ہوجاتے ہیں۔میں حقہ کو منع کہتا اور نہ جائز قرار دیتا ہوں مگر ان صورتوں میں کہ انسان کو کوئی مجبوری ہو۔یہ ایک لغو چیز ہےاور اس سے انسان کو پرہیز کرنا چاہیے۔۱